اسلام آباد(پاک ترک نیوز ) وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کے نفاذ کوآئینی قرار دےدیا ۔تفصیلی فیصلہ چیف جسٹس امین الدین خان نے جاری کیا۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سپر ٹیکس کا نفاذ انکم ٹیکس سے آزاد اور ایک الگ ٹیکس کے طور پر تصور کیا جائے گا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا سپر ٹیکس عام انکم ٹیکس کے علاوہ ہے، اس کا متبادل نہیں ، پیٹرولیم اور ایکسپلوریشن کمپنیوں پر سپرٹیکس کااطلاق مخصوص قانونی حدود اور معاہدوں کے مطابق ہوگا، فلاحی اور پنشن فنڈز سپرٹیکس سے استثنیٰ کے لیے سرٹیفکیٹس کی تصدیق کرانےکے پابند ہوں گے۔
وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا کہ سپر ٹیکس صرف اس آمدن پر لاگو ہوگا جس پر بنیادی ٹیکس بنتا ہے، ٹیکس سے مستثنی آمدن سپر ٹیکس سے بھی مستثنی ہے، جس آمدن پر قانون کے تحت ٹیکس نہیں اس پر سپر ٹیکس کا اطلاق بھی نہیں ہوگا۔
فیصلے کے مطابق جائیداد یا شیئرز کی فروخت پر ٹیکس چھوٹ ہو تو سپر ٹیکس لاگو نہیں ہوگا، وراثت یا مخصوص مدت کے بعد حاصل آمدن پر سپر ٹیکس عائد نہیں ہوگا، زرعی زمین کی فروخت یا آمدن پر بھی سپر ٹیکس کا اطلاق نہیں ہوگا۔










