لاہور( پاک ترک نیوز) ایک دیہاتی لڑکا جسے گھر والوں نے گانے سے روکا ،جس نے ٹرک اور رکشہ چلایا ، ہوٹل میں برتن اٹھائے،اور پھر اپنی آواز سے دنیا جیت لی ۔یہ کہانی ہے پاکستان کے لیجنڈ عطا ء اللہ عیسیٰ خیلوی کی ۔
عطاءاللہ خان عیسیٰ خیلوی جن کااصل نام عطاء اللہ خان نیازی ھے۔وہ نیازی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں پاکستان کے لوک موسیقی کے سب سے بڑے اور منفرد گلوکاروں میں شمار ہوتے ہیں۔
انیس اگست 1951 کو عیسیٰ خیل میں پید ہونے والے اس فنکار نے غربت ،مخالفت اور تنہائی کو اپنی طاقت بنایا،۔ ان کا تعلق ایک عام دیہاتی گھرانے سے تھا جہاں موسیقی کو خاص اہمیت نہیں دی جاتی تھی۔ لیکن بچپن ہی سے ان کے دل میں گائیکی کا ایسا جذبہ بیدار ہوا جو وقت کے ساتھ اور بھی گہرا ہوتا گیا۔
عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کو نہ کوئی پلیٹ فارم ملا نہ کوئی باقاعدہ استاد سے سیکھے ،لیکن ان کی آواز میں ایسا درد تھا جو سیدھا دل میں اترتا تھا،،انہوں نے اپنی آواز کے سحر اور فطری لگن سے موسیقی کو اپنا راستہ بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی آواز میں ایک قدرتی درد اور اثر انگیزی پیدا ہوئی جو بعد میں ان کی پہچان بنی۔
ابتدائی زندگی میں انہیں شدید مشکلات کا سامنا رہا۔ ۔ مگر عطاء اللہ خان نے ان سب رکاوٹوں کو خاطر میں نہ لایا۔ اپنے فن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے گھر کو خیر باد کہا اور مختلف شہروں میں ٹرک ڈرائیور اور رکشہ ڈرائیور اور ایک ہوٹل پر ویٹر کی نوکری بھی کی ۔غربت، مخالفت اور معاشرتی دباؤ ان کے راستے میں آتے رہے لیکن انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔
عطا اللہ عیسیٰ خیلوی نے باقاعدہ گائیکی کا آغاز اکتوبر 1978 کو رحمت گراموفون ھاؤس فیصل آباد میں ایک ساتھ چار البمز ریکارڈ کروا کر کیا۔جنہوں نے لالہ کو رات و رات شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا ۔
عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کے مشہور شعراء میں پروفیسر منور علی ملک ، آڈھا خان ، ملک سونا خان بے وس ، مجبور عیسیٰ خیلوی ، بابائے تھل فاروق روکھڑی ، ایس ایم صادق ، افضل عاجز،صابر بھریوں ،مظہر نیازی ،اظہر نیازی ، محمود احمد شامل ہیں ۔عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کے گانوں کی موسیقی ترتیب دینے میں سر فہرست نوری پٹھان ، صابر علی اور افضل عاجز شامل ہیں ۔
یہ بھی پڑھیں: کو کو رینا سے کلاسک تک ،احمد رشدی کی موسیقی کا سفر
عطا اللہ عیسیٰ خیلوی نے سرائیکی ،پنجابی ،اردو ،پشو میں گانے گائے ان کے گانوں میں محبت کی سچائی، جدائی کا کرب، دیہات کی سادہ زندگی اور انسانی جذبات کی عکاسی اتنے خوبصورت انداز میں ملتی ہے کہ سننے والا اپنے دل کو ان میں شامل محسوس کرتا ہے۔
انیس سو چورانوے میں ایک ہی سال اتنی زیادہ آڈیو کیٹس ریلیز کیں کہ ان کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج کیا گیا حکومت پاکستان نے بھی ان کی خدمات کو تسلیم کیا۔ 1991ء میں انہیں "ستارۂ امتیاز” دیا گیا۔
عطا اللہ عیسیٰ خیلوی صرف ایک گلوکار ہی نہیں ،اس مٹی کی آواز ہیں ،اور شاید اسی لیے ان کی آواز کبھی پرانی نہیں ہوتی۔












