لاہور( پاک ترک نیوز) پاکستانی فری لانسرز کا عالمی میدان میں دھماکہ ،کروڑوں ڈالر کمانے لگے ،صرف نو ماہ میں 856 ملین ڈالرز کما کر نوجوانوں نے معیشت کا رخ بدل دیا۔
پاکستانی فری لانسرز کے عالمی مارکیٹ میں بڑھتے ہوئے کردار سے ،زرمبادلہ میں خاطر خواہ اضافہ ہونے لگا ،پاکستانی فری لانسرز نے مالی سال26 کی تیسری سہ ماہی تک 856 ملین ڈالرز کما کر زرمبادلہ آمدن میں50فیصد اضافہ کیا،۔گزشتہ سال کی تیسری سہ ماہی میں567 ملین ڈالرز کے مقابلے میں289 ملین ڈالرز اضافہ ریکارڈ کیا گیا ، مالی سال 2026 کی تیسری سہ ماہی تک پاکستانی فری لانسرز کی جانب سے 856 ملین ڈالرز کا زرمبادلہ کمانا ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔
۔ ایک وقت تھا جب برآمدات کا تصور صرف روایتی صنعتوں تک محدود تھا، مگر اب فری لانسنگ اور آئی ٹی سروسز نے اس سوچ کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔
۔ حکومتی سطح پر آئی ٹی اور فری لانسنگ سیکٹر کو سہولتیں فراہم کرنا، ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو بہتر بنانا، اور نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے لیے تربیتی پروگرامز کا انعقاد—یہ سب عوامل اس ترقی کے پس منظر میں کارفرما ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آئی ٹی شعبہ نہ صرف ترقی کر رہا ہے بلکہ استحکام کی راہ پر بھی گامزن ہے۔
تاہم اس ترقی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کچھ چیلنجز پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ انٹرنیٹ کی رفتار اور رسائی، بین الاقوامی ادائیگیوں کے مسائل، اور فری لانسرز کے لیے قانونی و مالیاتی فریم ورک کی بہتری ایسے عوامل ہیں جن پر فوری کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ان رکاوٹوں کو دور کر لیا جائے تو پاکستان نہ صرف فری لانسنگ میں بلکہ مجموعی آئی ٹی برآمدات میں بھی خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہو سکتا ہے۔
پاکستانی فری لانسرز کی یہ کامیابی ایک نئی معاشی سمت کی نشاندہی کرتی ہے۔ اگر حکومتی پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہا اور نوجوانوں کو مزید سہولیات فراہم کی گئیں تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان عالمی ڈیجیٹل معیشت میں ایک مضبوط اور باوقار مقام حاصل کر لے گا۔








