نیویارک (پاک ترک نیوز)
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 80واں سالانہ اجلاس آج پیر کے روز نیویارک میں شروع ہو رہا ہے۔ جس میں غزہ پر اسرائیل کی جنگ، ماحولیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات اور مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلاؤ سمیت روس یوکرین جنگ اور ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ ملاقاتوں اور کانفرنسوں میں سر فہرست رہیں گے۔
امسال اقوام متحدہ کے 80ویں سالانہ اجلاس میں 150 سے زائد سربراہان مملکت یا حکومت کے ساتھ بڑی تعداد میں وزراء اور اعلیٰ حکام اعلیٰ سطحی جنرل ڈیبیٹ میں حصہ لیں گے جس کا سلسلہ 23 ستمبر کو شروع ہوگا ۔جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے مقررین میں اور وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف اجلاس کے آ خری دن 26ستمبر کے مقررین میں شامل ہیں۔
وزیراعظم شہبازاجلاس میں شرکت اور پاکستانی وفد کی قیادت کے لئے آج سہ پہر لندن سے نیویارک پہنچ رہے ہیں۔
وزیر اعظم کا 26 ستمبر کو 193 رکنی جنرل اسمبلی سے خطاب انکا اقوام متحدہ میں تیسرا خطاب ہو گا ۔اور پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم کی تقریر میں غزہ کے بحران، جموں و کشمیر میں حق خودارادیت، ماحولیاتی تبدیلی اور دیگر عالمی امورکو اجاگر کیاجائے گا۔
اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس کے آغاز سے پیشتر ایک بڑی پیش رفت میں برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا نے فلسطین کی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا ہے۔ اور غزہ میں جنگ کےخلاف فلسطینی ریاست کی حمایت کرنے کے لیے مغربی ممالک کی بڑھتی ہوئی تعداد میں شامل ہو گئے ہیں۔اسی ضمن میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہال میں گذشتہ ہفتے منعقدہ کانفرنس فلسطین میں مستقل قیام امن اور دو ریاستی حل کے حق میں اعلامیہ نیویارک کے عنوان سے قرار داد کی بھاری اکثریت سے منظوری دے چکی ہے۔
دنیا بھر میں موسمیاتی بحران کی تشویشناک رفتار اور پیمانے کا جائزہ لینے کے لیے بدھ 24 ستمبر کو ایک سربراہی اجلاس منعقد کیا جائے گا۔اس میں عالمی رہنما اپنے نئے قومی موسمیاتی ایکشن پلان پیش کریں گے۔ جنہیں قومی سطح پر طے شدہ شراکت یا این ڈی سیزکہا جاتا ہے۔ ملکی سطح کے وعدے جو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اقدامات کا خاکہ پیش کریں گے۔یہ سربراہی اجلاس حکومت، کاروبار اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں کو بھی یکجا کرے گا۔
مصنوعی ذہانت یا اے آئی تیزی سے دنیا کو تبدیل کر رہی ہے جس میں سیلف ڈرائیونگ کاروں سے لے کر میڈیکل امیجز کے تجزیے اورکاروبار کے لیے انوینٹری مینجمنٹ سے لے کر مالیاتی تجارتی الگورتھم تک اور ورچوئل اسسٹنٹس سے لے کر ریئل ٹائم لینگویج ٹرانسلیشن تک سب کچھ شامل ہے۔چونکہ عالمی سطح پر اے آئی کو منظم کرنے کے لیے کوئی تسلیم شد ہ بین الاقوامی ادارہ نہیں ہے۔ اس لیے عالمی رہنما 25 ستمبر کو نیویارک میں جمع ہو رہے ہیں تاکہ جامع اور جوابدہ اے آئی گورننس کے فریم ورک پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔












