لاہور (پاک ترک نیوز )پنجاب حکومت کے حکام کا کہنا ہے کہ لاہور میں حالیہ برسوں میں تعمیر کیے گئے زیرِ زمین اسٹورم واٹر اسٹوریج ٹینک نے مون سون کی جاری بارشوں کے دوران لاکھوں گیلن بارش کا پانی ذخیرہ کرکے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور نکاسی آب کے مسائل میں نمایاں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا۔
حکام کے مطابق تاج پورہ، جہاں ماضی میں بارش کا پانی طویل عرصے تک کھڑا رہتا تھا، وہاں تقریباً 40 لاکھ گیلن گنجائش والا زیرِ زمین ٹینک پہلی مون سون بارش کے دوران عارضی طور پر پانی ذخیرہ کرتا رہا، جس سے سیوریج نظام پر دباؤ کم ہوا اور علاقے سے پانی کی نکاسی تیزی سے ممکن ہوئی۔
اسی طرح لاہور کے 14 مختلف مقامات، جن میں لکشمی چوک، جوہر ٹاؤن اور چوبرجی شامل ہیں، پر قائم ایسے ٹینکوں نے بھی شدید بارش کے دوران پانی کے بہاؤ کو مؤثر انداز میں منظم کیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ مون سون سے قبل یکم مئی سے شروع کی گئی صوبہ بھر میں سیوریج کی صفائی (ڈی سلٹنگ) مہم اور پنجاب واسا ہیڈکوارٹرز میں قائم مرکزی ڈیجیٹل مانیٹرنگ ڈیش بورڈ نے پہلی بارش کے دوران نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مہم کے دوران 3,998 کلومیٹر سیوریج لائنوں کی صفائی کی گئی۔ 723 کلومیٹر برساتی نالوں کی صفائی مکمل کی گئی۔ 2 لاکھ 22 ہزار 545 مین ہولز صاف کیے گئے۔ 342 ویٹ ویلز کی صفائی کی گئی۔ نکاسی آب کے نظام سے 6 لاکھ 59 ہزار 475 ٹن گاد اور ٹھوس کچرا نکالا گیا۔
حکام کے مطابق لاہور، گجرات، اوکاڑہ، ساہیوال، سرگودھا اور دیگر کئی اضلاع میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں بارش کا پانی زیادہ تیزی سے نکالا گیا، جس کا سہرا پیشگی تیاری، اضافی مشینری، مسلسل نگرانی اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو دیا جا رہا ہے۔
حکام نے مزید بتایا کہ زیرِ زمین ذخیرہ کیے جانے والے بارش کے پانی کو مستقبل میں باغبانی اور شجرکاری کے لیے استعمال کیا جائے گا، جبکہ اس سے زیرِ زمین پانی کی سطح برقرار رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ غیر معمولی شدید بارش کی صورت میں بعض شہری علاقوں کا نکاسی آب کا نظام اب بھی دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔












