اسلام آباد(پاک ترک نیوز ) حکومت نے ماڑی انرجیز کو خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فضائی سروے کے ذریعے زیرِزمین وسائل کی تلاش اور نشاندہی کی اجازت دے دی۔
حکومت نے کمپنی کو سروے کے لیے طیارہ عارضی طور پر درآمد کرنے کی بھی اجازت دی ہے۔ ذرائع کے مطابق ماڑی انرجیز کو مشروط اجازت نامہ جاری کیا گیا ہے، جس کے تحت خیبرپختونخوا میں وزیرستان کے مغربی علاقے اور کرک بلاک جبکہ بلوچستان میں بلاک اٹھائیس، ہنہ، ہنہ جنوبی، زیارت اور زیارت شمالی کے علاقوں میں فضائی سروے کیا جائے گا۔
حکومت کی جانب سے اجازت کے ساتھ متعدد سکیورٹی اور انتظامی شرائط بھی عائد کی گئی ہیں۔ کمپنی اس بات کی پابند ہوگی کہ سروے صرف باہمی طور پر طے شدہ علاقوں تک محدود رہے گا۔
ماڑی انرجیز کو طیارے اور سروے ٹیم کی آمد سے کم از کم دو ہفتے پہلے متعلقہ حکام کو اطلاع دینا ہوگی۔ طیارے میں صرف سروے اور مواصلات کے لیے ضروری آلات نصب کیے جاسکیں گے، جبکہ دیگر تصویری یا سروے آلات لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
کمپنی کو یہ ضمانت بھی دینا ہوگی کہ حکام کی منظوری کے بغیر سروے کا کوئی ڈیٹا ملک سے باہر منتقل نہیں کیا جائے گا۔ ہر فضائی پرواز سے قبل گزشتہ پرواز سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا جائزہ لے کر متعلقہ حکام سے اجازت لینا ضروری ہوگا۔
سروے طیارے کا پیشگی معائنہ بھی کیا جائے گا، جبکہ ہر پرواز میں متعلقہ حکام کے دو افسران نگرانی اور رابطے کے لیے موجود ہوں گے۔ ہر سروے پرواز کا شیڈول کم از کم اڑتالیس گھنٹے پہلے فراہم کرنا ہوگا۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ اگر سروے کے دوران اہم یا تزویراتی معدنیات کی موجودگی سامنے آتی ہے تو متعلقہ حکام کو ترجیحی حقوق حاصل ہوں گے۔ غیر ملکی ماہرین کو بھی ضروری سکیورٹی منظوری کے بغیر سروے کے علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
سروے کے دوران غیر ضروری نقشے، نظامِ تعیینِ سمت، تکنیکی آلات اور دیگر سامان لے جانے پر پابندی ہوگی۔ ہر فضائی مشن کے لیے محفوظ راستہ طے کیا جائے گا اور کسی اہم دفاعی تنصیب کی تصویر بنانے یا وہاں جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
غیر ملکی افراد کو بھی مناسب سکیورٹی انتظامات کے بغیر دیگر علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ مقامی انتظامیہ ان کی حفاظت یقینی بنائے گی۔






