اسلام آباد (پاک ترک نیوز )اسلام آباد کے قائداعظم انٹرنیشنل اسپتال میں مبینہ غیر قانونی گردہ پیوندکاری کے اسکینڈل کی تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ چھاپے کے دوران اسپتال میں ڈونر وسیم اکرم کا گردہ پیوندکاری کا آپریشن جاری تھا، جس پر کارروائی کرتے ہوئے یورولوجسٹ ڈاکٹر نادر حسین اور گردہ پیوندکاری پروگرام کے رابطہ کار سید عدیل حیدر کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا۔
تحقیقاتی ریکارڈ کے مطابق ڈاکٹر نادر حسین کے دفتر کی تلاشی کے دوران دراز سے 12 لاکھ 94 ہزار روپے نقد برآمد ہوئے، جو مبینہ طور پر آپریشن کے لیے ادا کیے گئے تھے۔
مقدمے میں مجموعی طور پر 13 ملزمان نامزد ہیں، جن میں سے پانچ گرفتار ہو چکے ہیں، دو ضمانت پر ہیں جبکہ چھ ملزمان مفرور ہیں۔ ملزمان کے خلاف انسانی اعضا کی پیوندکاری سے متعلق قانون 2010 کی دفعات 9، 10 اور 11 سمیت تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 109 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
تفتیشی ریکارڈ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر نادر حسین اب تک 55 سے زائد غیر متعلقہ افراد کے گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری کر چکے ہیں۔ تحقیقات کے مطابق مبینہ طور پر زیادہ تر ڈونرز کا تعلق بھٹہ مزدور طبقے سے تھا، جنہیں قرض کے بوجھ سے نجات دلانے کا جھانسہ دے کر گردے فروخت کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔
تحقیقات کے دوران ملزمان، ایجنٹ سلیم خان اور سید عدیل حیدر کے بینک کھاتے منجمد کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کو خطوط بھی ارسال کیے جا چکے ہیں۔ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔












