تہران ( پاک ترک نیوز) آج ہم بات کریں گے دنیا کی اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کے بارے میں ،،یہ گزرگاہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔آبنائے ہرمز بند ہو جائے تو دنیا پر کیا اثرات پڑ سکتے ہیں ،جانتے ہیں اس رپورٹ میں ۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ خلیج فارس اور بحیرہ عرب کے درمیان واقع اس تنگ سمندری راستے سے روزانہ دنیا کے تقریباً بیس فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ یہاں سے روزانہ دنیا کے تیل کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ اس راستے سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، عراق اور قطر کا تیل اور گیس عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔
ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز بند کرنے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی رک گئی ہے ، بندش سے تیل کی قیمتوں میں بھی بہت اضافہ ہو سکتا ہے ،،، یورپ، ایشیا اور امریکہ سمیت کئی معیشتیں توانائی کی قلت کا شکار ہو سکتی ہیں، مہنگائی اور معاشی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔چین ،1جاپان ،بھارت کو شدید توانائی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے
آبنائے ہرمز بند ہو نے کے کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کی معیشت، سیاست اور سیکیورٹی متاثر ہو سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنا آسان نہیں کیونکہ دنیا کی بڑی بحری طاقتیں اس راستے کو کھلا رکھنے کی کوشش کریں گی۔









