تہران ( پاک ترک نیوز) ایران کے قریب امریکی بحریہ کا جدید ترین ٹریٹن ڈرون MP-4Cپراسرار طور پر غائب ہو گیا جس سے عالمی سطح پر تہلکہ مچ گیا ۔
ایران اور امریکہ کے درمیان خلیج فارس میں عسکری کشیدگی ایک نئے اور حیران کن مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ امریکی بحریہ کا جدید ترین MQ-4C ٹریٹن ڈرون پراسرار طور پر غائب ہو گیا، اور یہ واقعہ عالمی سطح پر تہلکہ مچا رہا ہے۔ ڈرون، جو متحدہ عرب امارات سے اڑا تھا، ایران کے جنوبی ساحل کے قریب 32,900 فٹ کی بلندی پر نگرانی کے دوران اچانک ریڈار سے غائب ہو گیا۔ واقعے کے وقت اس نے ایمرجنسی سگنل بھیجا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ ہنگامی صورتحال پیش آئی تھی۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ تکنیکی خرابی تھی یا پھر ایران نے جدید جیمنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے ڈرون کا کنٹرول حاصل کر لیا؟
اگر ایسا ہوا تو یہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ خلیج فارس میں طاقت کے توازن کے لیے ایک بڑا اشارہ ہے۔ ایران کی جیمنگ صلاحیتیں اب تک پوشیدہ سمجھی جاتی تھیں، لیکن اگر یہ واقعہ ایران کی طرف سے انجام دیا گیا ہو تو یہ امریکہ کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف امریکی نگرانی کی ساکھ کو سوالیہ نشان بنایا ہے بلکہ خطے میں جغرافیائی اور سیاسی کشیدگی کو بھی بڑھا دیا ہے۔
ایرانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی بیڑا مزید خطرے میں ہے۔ خلیج فارس میں مستقبل میں مزید ڈرونز پر حملے ہو سکتے ہیں۔ ایران کی نئی ٹیکنالوجی امریکہ کے جدید ہتھیاروں کے لیے چیلنج بن رہی ہے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران کی دفاعی اور ٹیکنالوجی صلاحیتیں صرف بڑھ رہی ہیں، اور مستقبل کے واقعات کسی بھی لمحے عالمی توجہ کا مرکز بن سکتے ہیں۔ دنیا کے نظریں خلیج فارس پر مرکوز ہیں، اور ہر لمحہ صورتحال بدل سکتی ہے۔






