تہران ( پاک ترک نیوز) مشرقِ وسطیٰ آگ میں جل رہا ہے۔ اس بار دعوے اتنے بڑے ہیں کہ دنیا ہل کر رہ گئی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے حیران کن دعویٰ کیا ہے کہ 800 امریکی فوجی ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔ کیا واقعی صورتحال اتنی خطرناک ہو چکی ہے؟
رپورٹس کے مطابق خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، کچھ مکمل طور پر غیر فعال ہو چکے ہیں، جبکہ باقی اڈے بھی خطرے کی زد میں ہیں۔ سب سے چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ اب فوجی محفوظ پناہ گاہوں کے بجائے شہری علاقوں، حتیٰ کہ ہوٹلوں میں منتقل ہو رہے ہیں۔
ایران کی جانب سے سخت وارننگ دی گئی ہے کہ اگر کسی نے ان فوجیوں کو پناہ دی، تو وہ مقامات بھی نشانہ بن سکتے ہیں۔ اس صورتحال نے خلیجی ممالک، خاص طور پر متحدہ عرب امارات، میں خوف کی لہر دوڑا دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا شہری عمارتیں اب اگلا میدانِ جنگ بننے والی ہیں؟
اُدھر عالمی طاقتوں کے درمیان بھی کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ یورپی یونین کے بیانات، روس پر الزامات، اور ایران کی جوابی حکمت عملی۔ سب کچھ ایک بڑی جنگ کے اشارے دے رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو نہ صرف فوجی بلکہ عام شہری بھی شدید خطرے میں ہوں گے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے: کیا یہ جنگ اب کنٹرول سے باہر ہو رہی ہے؟ اور اگر ایسا ہوا، تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آ سکتی ہے۔












