
از:سہیل شہریار
امریکہ میں تاریخ کا سب سے طویل حکومتی شٹ ڈاؤن ختم ہوگیا ہے مگر امریکی کانگریش کے ایوان زیریں میں اپوزیشن ڈیموکریٹ پارٹی کے اراکین شدید غصے میں ہیں۔ عوام کے لئے صحت کی انشورنس میں سبسڈی میں توسیع کا ڈیموکریٹس کا مطالبہ جوں کا توں موجود ہے۔ جبکہ حکومتی شٹ ڈاؤن کی ایک اور تاریخ اڑھائی ماہ کی دوری پر ہے۔
بات آگے بڑھانے سے پہلے یہ جان لیتے ہیں کہ امریکہ میں حکومتی شٹ ڈاؤن سے کیا مراد ہے۔امریکہ کے آئین میں حکومت کے مالی معاملات اور اخراجات پر پارلیمان کی نظر رکھنے کے لئے حکومت کو ہر تین ماہ بعد پارلیمان سے اخراجات کے بل کی منظوری لینا لازمی ہے۔اور اس بل کی عدم منظوری مالی طور پر حکومت کی بندش پر منتج ہوتی ہےاور اسے حکومتی شٹ ڈاؤن کہا جاتا ہے۔
اب ہاؤس ڈیموکریٹس کام پرتو واپس آ گئے ہیں۔مگروہ سینیٹ کے ڈیموکریٹس سے ناراض ہیں جنہوں نے انہیں شٹ ڈاؤن کے خاتمے کے لئے مذاکرات سے الگ کر دیا اور ریکارڈ 43 دن کے شٹ ڈاؤن کے بعد حکومت کو دوبارہ کھولنے کے معاہدے کوقبول کر لیا۔ وہ سپیکر مائیک جانسن پربھی برہم ہیں کہ انہوں نے اس دوران ایوان کے اجلاس کو ملتوی رکھاجبکہ شٹ ڈاؤن کا خاتمہ ہونے جارہا تھا۔ وہ اس لئے بھی تکلیف میں مبتلا ہیں کہ ان کی کلیدی مانگ ہیلتھ انشورنس سبسڈی کی توسیع کو پورا کرنے کے لیے اب بھی کوئی واضح راستہ دکھائی نہیں دے رہا ۔ جبکہ یہ عوامی سہولت اگلے مہینے ختم ہو رہی ہے۔
ان کا غصہ پورے کیپیٹل میںدیکھا جا رہا ہے۔ کیونکہ گذشتہ بدھ کے فیصلہ کن ووٹ سے حکومت کے ہاتھ تو دوبارہ کھول دئیے گئے ہیں مگر43دن کییہ طویل اور تلخ لڑائی انکی واضح جیت کے بغیر ختم ہوئی ہے۔
یہ کھٹا موڈ جنوری میں آنے والی ایک اور شٹ ڈاؤن ڈیڈ لائن کے ساتھ کھڑا ہے اور آنے والے ہفتوں میں انشورنس سبسڈی پر کسی نہ کسی طرح سے دو طرفہ سمجھوتہ کرنے کی امید کر رہے ہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ امریکی سینیٹ میںجلد ہی سبسڈیز پر ووٹ پڑے گا۔ مگر اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان کی اکثریت اسے سچ ماننے کے لئے تیار نہیں۔
چنانچہ آئندہ ماہ ختم ہونے والی انشورنس سبسڈیز پر پیشرفت کے لیے، ڈیموکریٹس نے ایک طویل طریقہ کار کا آغاز کیا جسے ڈسچارج پٹیشن کے نام سے جانا جاتا ہے تاکہ ووٹ کے لیے کریڈٹس میں تین سال کی توسیع ہو سکے۔ مگر اس بات کا امکان نہیں ہے کہ حکومتی ریپبلکن ارکان کی مطلوبہ تعداد اس پر دستخط کرے گی۔ اس لئے زیادہ امکان سینیٹ میں ہی کسی سمجھوتے کا ہے۔
مزید براں حکومتی شٹ ڈاؤن یا اخراجات کی بندش کی اگلی تاریخ 30 جنوری کو آرہی ہے۔ جب پچھلے سات ہفتوں کے دوران شٹ ڈاؤن کی وجہ بننے والے بہت سے عوامل میں کوئی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے۔اسکا مطلب ہے کہکانگریس مین ڈیموکریٹس کے ساتھ معاملات طے نہ کئے گئے تو ٹرمپ انتظامیہ کوآئندہ سال فروری کے آغاز سے دوبارہ شٹ ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔










