کراچی ( پاک ترک نیوز) میر رضا کمیشن نے اپنی کارروائی مکمل کرلی، کمیشن کے سامنے مجموعی طور پر 42 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے جبکہ تین پولیس افسران نے تحریری جوابات جمع کرا دیے۔کمیشن نے ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان، ڈی آئی جی شرقی فرخ لنجار اور ڈی آئی جی عامر فاروقی سے تحریری جواب طلب کیے تھے، تینوں افسران نے اپنے جوابات سیل شدہ لفافوں میں کمیشن کو جمع کرا دیے۔تینوں پولیس افسران سے کمیشن اور میر رضا کے اہلخانہ کی جانب سے سوالنامے بھی کیے گئے تھے۔میر رضا کمیشن میں دو گواہوں، حسن تنولی اور صارم بن طاہر کے بیانات ویڈیو رابطے کے ذریعے ریکارڈ کیے گئے۔
محکمہ صحت کی جانب سے سیکریٹری صحت سندھ طاہر سانگی سمیت پانچ گواہ کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔ سابق اسپیشل سیکریٹری و ڈی جی ہیلتھ شہریار میمن، سابق ڈی ہیلتھ پرویز احمد شیخ، پولیس سرجن ڈاکٹر سومعیہ سید اور پہلے پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ نے بھی بیانات ریکارڈ کرائے۔پروفیسر ڈاکٹر نسیم احمد بیرون ملک ہونے کے باعث جبکہ نیوی ملازم عثمان بوزئی بیرون شہر ہونے کے باعث بیان ریکارڈ نہ کرا سکے۔پولیس کی جانب سے 10 اہلکاروں نے روبرو بیانات ریکارڈ کرائے جبکہ تین اعلیٰ افسران نے تحریری جوابات جمع کرائے۔ایس ایس پی خصوصی تفتیشی یونٹ سمیع اللہ سومرو، اے ایس پی بہادرآباد ندا جنید، موجودہ تفتیشی ٹیم کے رکن ڈی ایس پی سراج لاشاری اور سابق تفتیشی افسر شبیر لغاری نے بھی کمیشن کے سامنے بیانات ریکارڈ کرائے۔انسپکٹر سی آئی اے محمد علی، سابق ایس ایچ او گلستان جوہر کامران قریشی، ہیڈ محرر ذیشان حیدر، سابق ڈی ایس پی شاہراہ فیصل محمد ارشد آفریدی اور ایس ایچ او فیروز آباد عدیل افضال بھی کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے گورنر کے اجلاس کو غیر آئینی قرار دے دیا
میر رضا کے کاروباری شراکت دار احمد بھاردے اور عبداللہ بھاردے، کاروبار وافلکس کے ملازمین شہریار عرف شیری، محمد عمیر اور کاظم نے بھی بیانات ریکارڈ کرائے۔میر رضا کے دوستوں رازق، حیثم، صارم بن طاہر اور حسن تنولی کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے، جبکہ علی شاز میمن نے بھی میر رضا کا دوست ہونے کا دعویٰ کیا۔کمیشن کے سامنے دو صحافیوں اور وافلکس میں سرمایہ کاری کرنے والے پانچ افراد کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے۔ سرمایہ کاروں میں آصف فاروق سومار، عابد فاروق، اسد بٹ، حسن تنولی اور احمد حسن شیخ شامل ہیں۔دو نرسری ملازمین یاسر اور قیصر، ایدھی فاؤنڈیشن کے رضاکار محسن اور جاوید جبکہ ایک چوکیدار بھی کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔
اب کمیشن تمام گواہوں کے بیانات اور جمع کرائے گئے تحریری جوابات کی روشنی میں اپنی فائنڈنگز مرتب کرکے رپورٹ تیار کرے گا۔












