غزہ ( پاک ترک نیوز) اسرائیل اور حماس نے جنگ روکنے اور غزہ میں یرغمال قیدیوں کی رہائی کیلئے امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر مصر میں دستخط کر دیئے تاہم امن ڈیل پر باضابطہ دستخط آج دوپہر کیے جائیں گے۔
امن مذاکرات میں امریکی مندوب اسٹیو وٹکوف، صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کُشنر اور حماس رہنما خلیل الحیہ نے شرکت کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر امن ڈیل ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تمام فریقوں کے ساتھ منصفانہ برتاؤ کیا جائے گا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ڈیل کا مطلب یہ ہے کہ تمام یرغمالی جلد رہا کر دیئے جائیں گے اور اسرائیل ایک مضبوط، پائیدار اور لازوال امن کی طرف پہلے قدم کے طور پر اپنی فوج کا متفقہ لائن پر انخلا کرے گا۔
امریکی صدر نے کہا کہ کہ فریقین نے امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر دستخط کر دیئے ہیں، امید ہے یرغمالیوں کوسوموار کو رہا کیا جائے گا ، ہلاک یرغمالیوں کی لاشیں بھی واپس کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ آپ غزہ کو دوبارہ تعمیر ہوتے دیکھیں گے، یہ ایک مضبوط، پائیدار اور دائمی امن کی جانب پہلا قدم ہے، سلامتی ہو اُن پر جو امن قائم کرتے ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران ایک یا دو ماہ کے اندر ایٹمی ہتھیار کے حصول کے قریب تھا، یہ ہونے دیتا تو معاہدہ ممکن نہ ہوتا ،اب ایک بالکل مختلف ایران ہے، غزہ معاہدہ اسرائیل، مسلمانوں ،عرب ممالک اور ہمارے لئے شاندار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میرا یقین ہے ایران مجموعی امن عمل کا حصہ بنے گا، ہم آٹھویں جنگ کو ختم کرنے کے قریب ہیں، میرا خیال ہے ہم روس یوکرین کے معاملے کو بھی حل کر لیں گے، میرا نہیں خیال کہ تاریخ میں کسی نے اتنی جنگیں ختم کی ہوں۔












