لاہور(پاک ترک نیوز )گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا ہے کہ ملک میں سیاست دانوں ،میڈیا مالکان سمیت تمام شعبوں سے وابستہ افراد کا احتساب ہونا چاہیے۔ میڈیا مالکان سے بھی پوچھا جانا چاہیے کہ ان کے پاس اربوں روپے کہاں سے آئے، جبکہ میڈیا ورکرز کو آج بھی تنخواہیں نہیں مل رہیں۔
گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے لاہور پریس کلب میں سینئر صحافی ستار چوہدری کی کتاب ’’پاکستان بچاؤ‘‘ کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں مہنگائی کے باعث عام آدمی مشکلات کا شکار ہے۔ نظام بدلنے کی باتیں تو کی جاتی ہیں، لیکن اگر چہرے وہی رہیں تو تبدیلی کیسے آئے گی؟
انہوں نے کہا کہ 1973 کا آئین ذوالفقار علی بھٹو نے دیا، جبکہ پیپلز پارٹی اٹھارہویں ترمیم لے کر آئی، لیکن اس پر بھی بحث ہوتی رہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بہتر لوگ سامنے آجائیں تو یہی نظام بھی ٹھیک ہوسکتا ہے۔
سردار سلیم حیدر خان نے ٹیکس نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس کا موجودہ نظام درست نہیں۔ تنخواہ دار طبقہ ٹیکس نہ دے تو نظام چلانے کے لیے کچھ نہیں بچتا، لیکن موجودہ صورت حال یہ ہے کہ جس کا نام ٹیکس کے لیے سامنے آجائے، اسی کو نچوڑ لیا جاتا ہے۔
انہوں نے بیوروکریسی میں فائلوں کو آگے بڑھانے کے لیے مبینہ طور پر رشوت دینے کی شکایات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ احتساب کا دائرہ تمام اداروں تک پھیلنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بیرونِ ملک پرتعیش زندگی گزارنے والے افسران اور ججوں سے بھی سوال ہونا چاہیے کہ ان کے پاس اتنے وسائل کہاں سے آئے۔
گورنر پنجاب نے مزید کہا کہ عوام آج بھی سیاست دانوں کو برا کہتے ہیں، لیکن سیاست دانوں کا احتساب صرف عوام ہی نہیں بلکہ مختلف ادارے بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ احتساب سب کا یکساں ہونا چاہیے۔
دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف متحد نہیں ہوسکیں۔ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے باعث حالات خراب ہیں، جبکہ پاکستان کی بقا شہدا کی قربانیوں کی مرہونِ منت ہے۔
انہوں نے دفاعی محاذ پر پاکستان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ معرکۂ حق میں بھارت کو جواب دیا گیا اور پورا بھارت اندھیرے میں ڈوب گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دفاعی محاذ پر پاکستان کی پوزیشن بہت مضبوط ہے۔
گورنر راج سے متعلق سوال پر سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ گورنر راج وزیراعظم کی سمری پر نافذ کیا گیا اور یہ آئین کے مطابق ایک آئینی اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر راج کا سارا ملبہ پیپلز پارٹی پر ڈالنے کے بجائے دیگر فریقین کو بھی اس میں اپنا حصہ قبول کرنا چاہیے۔
انہوں نے تقریب میں شرکت کے حوالے سے مزاحیہ انداز میں کہا کہ انہیں معلوم ہوا تھا کہ کتاب کی تقریبِ رونمائی کے لیے تمام مہمان بھاگ گئے ہیں، لیکن وہ اٹک سے لاہور آکر نہیں بھاگے، اس لیے انہیں داد ملنی چاہیے۔
تقریب میں صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری، جنرل سیکرٹری افضال طالب اور دیگر سینئر صحافیوں نے شرکت کی۔ گورنر پنجاب نے ستار چوہدری کو چھ کتابیں لکھنے پر مبارک باد پیش کی اور صحافیوں کے ساتھ اپنے دیرینہ بھائی چارے کا ذکر بھی کیا۔






