لاہور( پاک ترک نیوز) پاکستانی طلبہ کے لیے بڑی خوشخبری، ہائر ایجوکیشن کمشن نے امریکا کی صفِ اول جامعات میں پی ایچ ڈی کے لیے مکمل فنڈڈ اسکالرشپس کا اعلان کر دیا ہے۔
پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے خواہشمند طلبہ کے لیے ایک بڑا موقع سامنے آگیا ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے یو ایس پاکستانی نالج کوریڈور پراجیکٹ کے تحت امریکا کی ٹاپ جامعات میں پی ایچ ڈی اسکالرشپس کے لیے درخواستیں طلب کر لیں ۔
یہ اسکالر شپ دنیا کی ٹاپ سو یونیورسٹیز میں ہوں گی۔ ٹاپ 50 جامعات میں داخلہ حاصل کرنے والے طلبا کو مکمل فنڈنگ دی جائے گی، جس میں ٹیوشن فیس، ماہانہ وظیفہ اور ہیلتھ انشورنس شامل ہے۔
جبکہ 51 سے 100 کے درمیان جامعات میں داخلہ لینے والوں کو سالانہ 12 ہزار ڈالر تک ٹیوشن سپورٹ، وظیفہ اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
دلچسپی رکھنے والے امیدوار سرکاری پورٹل کے ذریعے درخواست دے سکتے ہیں، جبکہ اپلائی کرنے کی آخری تاریخ 30 اپریل 2026 مقرر کی گئی ہے۔
پروگرام کا مقصد پاکستان میں تحقیق کے معیار کو بہتر بنانا اور نوجوانوں کو عالمی معیار کی تعلیم تک رسائی دینا ہے، تاکہ وہ مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکیں۔
ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام پاکستان میں ریسرچ کلچر کو فروغ دینے میں اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ اسکالرشپ پروگرام پاکستانی طلبہ کے لیے عالمی تعلیمی دروازے کھولنے کی ایک بڑی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم، یہاں ایک اہم سوال بھی پیدا ہوتا ہے کیا صرف اسکالرشپ فراہم کرنا کافی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اصل کامیابی تب ہوگی جب یہ طلبا تعلیم مکمل کرنے کے بعد پاکستان واپس آ کر اپنے علم اور تحقیق کو ملک کی ترقی کے لیے استعمال کریں۔ بدقسمتی سے ذہین افراد بیرونِ ملک ہی بس جاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت ایسے اقدامات بھی کرے جو ان ماہرین کو وطن واپس آنے اور کام کرنے کی ترغیب دیں۔یہ پروگرام پاکستان کے تعلیمی نظام میں بہتری لانے کا ایک سنہری موقع ہے۔ اگر اسے درست طریقے سے نافذ کیا جائے تو یہ نہ صرف یونیورسٹیوں کے معیار کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ ملک میں تحقیق، جدت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی نمایاں پیش رفت ممکن ہے۔






