اسلام آباد (پاک ترک نیوز )اپوزیشن قائدین نے حکومت سے مذاکرات کو بانی تحریک انصاف سے ملاقات سے مشروط کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کوئٹہ سے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ ناصر عباس سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، دونوں رہنماؤں نے آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد اور آئندہ کی حکمت عملی پر مشاورت کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس نے حکومت سے مذاکرات کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اس حوالے سے مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کیا۔
دوسری جانب چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے رابطے کی تردید کردی۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ ان کا مولانا فضل الرحمان سے کوئی رابطہ نہیں ہوا اور نہ ہی ٹیلیفون پر کوئی گفتگو ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کوشش ہے کہ جمہوریت پٹری سے نہ اترے، کسی بھی اقدام کے خلاف جواب دینے کے لیے پی ٹی آئی نے صف بندی کر رکھی ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ لانگ مارچ سے قبل کبھی یہ نہیں کہا گیا کہ خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف اقدامات نہیں کررہی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر دہشت گردی ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے لیے واضح پالیسی ضروری ہے تاکہ عوام بھی اس کے ساتھ کھڑے ہوں۔












