اسلام آباد(پاک ترک نیوز ) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ آئین میں دیے گئے طریقۂ کار کے مطابق کام کیا گیا، کسی آئینی شق کی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔ حکومت نے گورنر راج یا ہنگامی حالت نافذ کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔
سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے آئین کی ایک ایک شق کا جائزہ لیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ کسی شق کی خلاف ورزی نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کسی سے دشمنی نہیں، سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔
وزیر داخلہ نے احتجاج اور مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پچیس نومبر کو جب دھاوا بولا گیا تو حکومت نے احتجاج کے لیے جگہ دینے کی پیشکش کی تھی۔ ان کے مطابق احتجاج ختم کرنے اور سنگجانی جانے کے معاملے پر فون پر بات کروائی گئی، لیکن بعد میں ویڈیو پیغام کی شرط رکھ دی گئی۔
محسن نقوی نے کہا کہ بیرسٹر گوہر کو بلایا گیا اور دو گھنٹے انتظار کیا گیا۔ پھر انہیں جیل میں سلاخوں کے پیچھے جا کر ویڈیو ریکارڈ کرنے کی بات کہی گئی۔ ان کے مطابق اس کے بعد بھی مؤقف تبدیل ہوا اور کہا گیا کہ ویڈیو اگلے روز ریکارڈ کی جائے گی۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے لیے حکومت نے ہر ممکن کوشش کی اور رات بارہ بجے بھی رابطہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے، اگر مخالف فریق کے پاس مذاکرات کے لیے اختیار نہیں تھا تو پہلے ہی بتا دینا چاہیے تھا۔
محسن نقوی نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں سکیورٹی اہلکار اپنی جانیں دے رہے تھے، لیکن ان کے بقول صوبائی حکومت کی جانب سے تعاون نہیں کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت دہشت گردی میں ملوث افراد میں سے اسی فیصد افغانستان سے آ رہے ہیں اور بعض کی شناخت اور قبائلی پس منظر تک معلوم نہیں۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت نے صوبے میں ہنگامی حالت یا گورنر راج کے حوالے سے فیصلہ حالات کو دیکھتے ہوئے کیا، تاہم یہ ایک مشکل فیصلہ تھا۔











