تہران ( پاک ترک نیوز) ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نماز جنازہ ادا کردی گئی ۔ نماز جنازہ میں لاکھوں افراد نے شرکت کی ۔
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ تہران کی گرینڈ مصطیٰ کمپلکیس میں ادا کر دی گئی۔ جنازے میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی اسپیکر باقر قالیباف اور دیگر اعلیٰ حکام سمیت لاکھوں افراد نے شرکت کی۔
ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کے تین بیٹے میثم، مسعود اور مصطفیٰ خامنہ ای تہران کی مسجد میں اپنے والد کی نمازِ جنازہ میں پہلی صف میں موجود تھے۔
تاہم، بی بی سی فارسی کے مطابق ان کے چوتھے بھائی یعنی ایران کے موجودہ رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نمازِ جنازہ میں موجود نہیں تھے۔
سربراہ پاسدارانِ انقلاب احمد وحیدی نے شہید سپریم لیڈر کا آخری دیدار کیا، ایرانی سرکاری میڈیا نے احمد وحیدی کو سپریم لیڈر کے تابوت کا بوسہ لیتے ہوئے دکھایا، احمد وحیدی کا شمار ایران کےاہم ترین عسکری حکام میں ہوتا ہے۔
آخری رسومات میں ایرانی سیاسی اور عسکری قیادت کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی نظر آئی، تعزیتی تقریب میں عسکری تنظیموں حزب اللہ، حماس کے نمائندوں نے بھی شرکت کی، فلسطینی اسلامک جہاد کے نمائندوں اور طالبان ارکان نے بھی شرکت کی۔
گرینڈ مصلیٰ کے بڑے صحن میں جمع ہزاروں لوگوں نے ہاتھوں میں سرخ جھنڈے اٹھا رکھے تھے، جنہیں ایران میں خون کا بدلہ اور انتقام لینے کی علامت سمجھا جاتا ہے، وہاں موجود لوگ مسلسل ’امریکا مردہ باد‘ اور ’انتقام، انتقام‘ کے نعرے لگا رہے تھے، جس سے پوری فضا گونج رہی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: سوگ میں ڈوبا ایران ،سپریم لیڈر کا آخری دیدار
پیر کو صبح جنازے کا مرکزی جلوس نکالا جائے گا، اس کے بعد میت کو قم منتقل کیا جائے گا جہاں سے جسد خاکی کو عراقی شہر نجف اور کربلا لے جایا جائے گا، 9 جولائی کو شہید سپریم لیڈر کی ان کے آبائی شہر مشہد میں تدفین کی جائے گی.
یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے رواں برس 28 فروری کو مشترکہ حملے میں آیت اللّٰہ خامنہ ای کی شہادت کے سبب 8 مارچ کو یعنی تقریباً ایک ہفتے ہی میں نئے سپریم لیڈر کا انتخاب کر لیا گیا تھا تاہم شہید سپریم لیڈر کی فوری تدفین نہیں کی گئی تھی۔












