ریاض: (پاک ترک نیوز)سعودی عرب کے شہر جدہ میں تعمیر ہونے والی دنیا کی سب سے بلند عمارت، JEC ٹاور، ایک اہم تعمیراتی سنگ میل کے قریب پہنچ گئی ہے۔ یہ ٹاور جلد ہی 100 منزلہ ہونے والا ہے اور اس کی مکمل تکمیل کا منصوبہ 2028 تک ہے۔
پچھلے سال نومبر میں یہ ٹاور 69 منزلہ پہنچ چکا تھا، جبکہ انجینئرنگ فرم تھورٹن ٹومیسیٹی کے مطابق دسمبر کے آخر تک عمارت نے 80 منزلیں عبور کر لیں اور مقامی ذرائع کے مطابق یہ اب 84 منزلوں تک پہنچ چکی ہے۔
اگر یہ تیز رفتار تعمیر جاری رہی تو آنے والے ہفتوں میں 100 منزلوں کا سنگ میل عبور کر لیا جائے گا، جو دنیا کی تقریباً 25 عمارتوں تک محدود ہے۔
تاہم، عمارت کا کام ابھی مکمل نہیں ہوا۔ معمار ایڈریان سمتھ اور گورڈن گل کے مطابق، JEC ٹاور میں کم از کم 157 منزلیں ہوں گی اور یہ 1 کلومیٹر (0.62 میل) سے بلند ہوگی، جو موجودہ بلند ترین عمارت برج خلیفہ سے بھی زیادہ اور امریکہ کے بلند ترین ٹاور One World Trade Center کے تقریباً دو گنا لمبی ہوگی۔
عمارت میں دنیا کا بلند ترین آبزرویٹری پوائنٹ، لگژری ہوٹل، دفتر اور شاندار اپارٹمنٹس ہوں گے۔ عمارت میں 59 لفٹیں نصب کی جائیں گی، جن میں دو منزلہ لفٹیں 10 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے لوگوں کو اوپر نیچے لے جائیں گی۔
عمارت کے اندر کل فلور اسپیس 5.7 ملین مربع فٹ ہوگی۔JEC ٹاور پہلے Kingdom Tower اور Jeddah Tower کے نام سے جانا جاتا تھا اور یہ شہر کی نئی اربن ڈویلپمنٹ کا مرکزی حصہ ہوگا۔
یہ پروجیکٹ سعودی شہزادہ الولید بن طلال کی قیادت میں ایک دہائی سے جاری ہے، تاہم 60 ویں منزل کے بعد کام رک گیا تھا، جس کی تاخیر کے پیچھے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے اقدامات کو ذمہ دار قرار دیا گیا۔
یہ میگا ٹاور سعودی عرب کے دیگر بڑے منصوبوں جیسے The Line اور Mukaab کے ساتھ مل کر ملک کو عالمی سیاحتی مرکز بنانے کی کوشش کا حصہ ہے۔












