لاہور( پاک ترک نیوز) دنیا کے ارب پتی آخر رہتے کہاں ہیں؟۔۔۔ کون سے شہر دولت کے قلعے بن چکے ہیں؟۔۔۔ اور کون سے ممالک عالمی معیشت کی نئی طاقت بن کر ابھر رہے ہیں؟۔۔۔ تازہ عالمی درجہ بندی نے اربوں ڈالر کے مالکان کے پسندیدہ شہروں کا راز کھول دیا ہے۔۔۔ اور نتائج نے دنیا کی معاشی طاقت کا بدلتا ہوا نقشہ بھی سامنے رکھ دیا ہے۔
ہورن گلوبل رچ لسٹ 2026 کے مطابق امریکی شہر نیویارک اب بھی دنیا کا سب سے بڑا ارب پتیوں کا مرکز ہے۔۔۔ جہاں 146 ارب پتی افراد رہائش پذیر ہیں۔۔۔ وال اسٹریٹ کی چکاچوند، مالیاتی اداروں کا جال، ٹیکنالوجی کمپنیوں کی طاقت اور رئیل اسٹیٹ کی بلند قیمتوں نے نیویارک کو دولت کا عالمی دارالحکومت بنا رکھا ہے۔
لیکن اب نیویارک کی برتری کو سب سے بڑا چیلنج چین سے مل رہا ہے۔۔ شین ژن 132 ارب پتیوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر آ چکا ہے۔۔ شنگھائی 120 ارب پتیوں کے ساتھ تیسرے اور بیجنگ 107 ارب پتیوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر موجود ہے۔۔۔ یوں دنیا کے امیر ترین شہروں کی فہرست میں چین کے تین شہر ٹاپ فور میں شامل ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک دنیا کے پہلے کھرب پتی بن گئے
فہرست میں لندن پانچویں نمبر پر موجود ہے جہاں 102 ارب پتی رہتے ہیں۔۔ جبکہ بھارت کا مالیاتی مرکز ممبئی 95 ارب پتیوں کے ساتھ چھٹے نمبر پر آ گیا ہے۔۔ ہانگ کانگ، سان فرانسسکو، ماسکو، نئی دہلی، سنگاپور اور پیرس بھی دولت کے بڑے مراکز میں شمار ہوتے ہیں۔
رپورٹ کا سب سے اہم پہلو ایشیا کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ ہے۔۔۔ فہرست میں شامل بیشتر شہر ایشیائی خطے سے تعلق رکھتے ہیں۔۔۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی، صنعت، ای کامرس اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں غیر معمولی ترقی نے ایشیا کو عالمی دولت کا نیا مرکز بنا دیا ہے۔
چین اور بھارت جیسے ممالک میں نئے ارب پتیوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی دولت کا توازن مغرب سے مشرق کی جانب منتقل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔۔۔ اور آنے والے برسوں میں یہ رجحان مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔
نیویارک اب بھی اربوں ڈالر کی سلطنتوں کا سب سے بڑا گھر ہے۔۔۔ لیکن شین ژن، شنگھائی اور بیجنگ تیزی سے اس کے قریب پہنچ رہے ہیں۔۔۔ دنیا کی دولت کا نقشہ بدل رہا ہے۔۔۔ اور ایشیا نئی معاشی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے۔۔۔ سوال یہ ہے کہ کیا آنے والے برسوں میں نیویارک اپنی بادشاہت برقرار رکھ پائے گا یا دولت کا تاج مکمل طور پر مشرق کے سر سج جائے گا؟












