لاہور( پاک ترک نیوز) جیل۔۔۔ ایک ایسا لفظ جس کا نام سنتے ہی ذہن میں اونچی دیواریں، لوہے کی سلاخیں اور سخت نگرانی کا تصور ابھرتا ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں کچھ ایسی جیلیں بھی ہیں جہاں قیدی بنیادی انسانی سہولتوں سے محروم ہیں، جبکہ کچھ ایسی جیلیں بھی موجود ہیں جہاں قیدیوں کو تعلیم، ہنر، بہتر رہائش اور نئی زندگی شروع کرنے کے مواقع دیے جاتے ہیں۔
وسطی امریکی ملک ایل سلواڈور نے خطرناک جرائم پیشہ گروہوں کے لیے ایک انتہائی محفوظ قید خانہ قائم کیا ہے۔یہ دنیا کے سخت ترین قید خانوں میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں ہزاروں خطرناک قیدی رکھے جاتے ہیں۔
قیدی دن کا زیادہ تر وقت اپنی بیرکوں میں گزارتے ہیں، ان پر مسلسل نگرانی رکھی جاتی ہے اور انہیں انتہائی محدود سہولتیں حاصل ہوتی ہیں۔
امریکا کی ریاست کولوراڈو میں واقع یہ قید خانہ دنیا کے سخت ترین قید خانوں میں شمار ہوتا ہے۔یہاں خطرناک دہشت گرد، جاسوس اور سنگین جرائم میں سزا پانے والے افراد رکھے جاتے ہیں۔
بعض قیدی روزانہ تقریباً تئیس گھنٹے تنہائی میں گزارتے ہیں اور ان کا دوسروں سے رابطہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔
روس کا یہ مشہور قید خانہ عمر قید پانے والے انتہائی خطرناک مجرموں کے لیے مخصوص ہے۔
یہاں نگرانی اس قدر سخت ہوتی ہے کہ قیدیوں کو جھکا کر چلایا جاتا ہے تاکہ وہ اردگرد کا جائزہ نہ لے سکیں۔یہ قید خانہ ایک عرصے تک دنیا کے بدترین قید خانوں میں شمار ہوتا رہا۔ایک وقت ایسا بھی آیا جب یہاں قیدیوں کی تعداد گنجائش سے کئی گنا بڑھ گئی، جس کے باعث خوراک، صفائی اور علاج کی شدید کمی پیدا ہو گئی۔
ناروے کا ہالدن قید خانہ دنیا کے بہترین اصلاحی مراکز میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہاں قیدیوں کو صاف ستھرے کمرے، تعلیم، ہنر سکھانے کے مواقع، کھیل، موسیقی اور نفسیاتی رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔اس کا مقصد صرف سزا دینا نہیں بلکہ قیدی کو دوبارہ ایک ذمہ دار شہری بنانا ہے۔
ناروے کا باسٹوی قید خانہ ایک جزیرے پر قائم ہے جہاں قیدی کھیتی باڑی، مویشی پالنے، ماہی گیری اور دیگر کاموں میں حصہ لیتے ہیں۔یہ نظام قیدیوں میں ذمہ داری، خود اعتمادی اور معاشرے میں واپسی کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
آسٹریا کا جدید لیوبن قید خانہ اپنے آرام دہ ماحول کے لیے مشہور ہے۔یہاں قدرتی روشنی، صاف ستھرا ماحول، تعلیم، تربیت اور ذہنی صحت پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے تاکہ قیدی سزا پوری ہونے کے بعد بہتر زندگی گزار سکیں۔
ماہرین کے مطابق جدید قید خانوں کا مقصد صرف مجرم کو سزا دینا نہیں بلکہ اس کی اصلاح بھی ہوتا ہے۔بہترین رہائش گاہوں میں معیاری رہائش،تعلیم ،ہنر سکھانے کی سہولت ،علاج اور ذہنی صحت کی دیکھ بھال،کھیل کود ،روز گار کی تربیتپر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔
بدترین قید خانوں میں قیدیوں کی حد سے زیادہ تعداد ہوتی ہے،صفائی کی خراب صورت حال،علاج کی کمی،تشدد،ناقص خوراک،سخت تنہائی جیسے مسائل عام ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور،ڈیفنس میں وفاقی وزیر عطا تارڑ کی گاڑی کے قریب فائرنگ
ماہرین کے مطابق سخت سزا خطرناک مجرموں کو قابو میں رکھنے کے لیے ضروری ہے، جبکہ دوسرے ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیم، ہنر، علاج اور اصلاح پر مبنی نظام دوبارہ جرم کرنے کے امکانات کو زیادہ مؤثر انداز میں کم کرتا ہے۔
دنیا کے قید خانے صرف سلاخوں کے پیچھے بند زندگی کا نام نہیں بلکہ ہر ملک کے انصاف، قانون اور انسانی حقوق کی سوچ کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔ کہیں قید خانے خوف کی علامت ہیں تو کہیں اصلاح اور نئی زندگی کی امید بن چکے ہیں۔ یہی فرق دنیا کے مختلف ممالک کے عدالتی اور اصلاحی نظام کو ایک دوسرے سے ممتاز بناتا ہے۔












