واشنگٹن : (پاک ترک نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی نمائندے اور لوزیانا کے گورنر جیف لینڈری نے گرین لینڈ کے حوالے سے ایسا بیان دے دیا ہے جس نے یورپ میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔
لینڈری کا کہنا ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے دوران جب نازی جرمنی نے ڈنمارک پر قبضہ کیا، تو امریکا نے گرین لینڈ کو محفوظ رکھا۔ آج بھی امریکا کو آرکٹک میں “فیصلہ کن کردار” ادا کرنا ہوگا۔
امریکی موقف یہ ہے کہ گرین لینڈ امریکا کی نیشنل سیکیورٹی کا ایک “اہم ستون” ہے، اور 1941 ء سے امریکا وہاں فوجی موجودگی رکھتا آیا ہے۔
لیکن دوسری طرف ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے واضح پیغام دے دیا ہے کہ "گرین لینڈ پر امریکی قبضے کے عزائم پر بنیادی اختلاف موجود ہے، اور ہم اسے حقیقت بننے سے روکیں گے”۔
جبکہ گرین لینڈ کے وزیراعظم جینس فریڈرک نیلسن نے بھی دو ٹوک اعلان کر دیا ہے کہ: "گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں، اور ہم امریکا کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔”
نیٹو ممالک اب آرکٹک میں فوجی مشقیں بڑھا رہے ہیں، نیدرلینڈز بھی ڈنمارک کی قیادت میں ہونے والی مشقوں میں شامل ہو چکا ہے۔ جبکہ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون خبردار کر چکے ہیں کہ دنیا میں عدم استحکام کی قوتیں بیدار ہو چکی ہیں، اور پرانے اتحاد ٹوٹ رہے ہیں۔
سوال یہ ہے: کیا گرین لینڈ اگلا یوکرین بننے جا رہا ہے؟ کیا امریکا اور یورپ آمنے سامنے آ رہے ہیں؟ اور کیا آرکٹک خطہ تیسری عالمی کشمکش کا نیا میدان بنے گا؟












