تہران ( پاک ترک نیوز) ایران اور امریکا کے درمیان عبوری امن معاہدے کے بعد توانائی کی عالمی منڈی میں بحالی کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں۔ قطر نے جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار ایک خالی مائع قدرتی گیس بردار جہاز کو آبنائے ہرمز کے راستے واپس خلیج فارس بھیج دیا ہے، جسے گیس برآمدات میں متوقع اضافے کی اہم علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق قطری سرکاری شپنگ کمپنی کی ملکیت میں موجود ایل این جی ٹینکر الحملا قطر کے راس لفان برآمدی ٹرمینل پر پہنچا۔ جہاز تقریباً ایک ہفتہ قبل مغربی بھارت کے قریب اپنا ٹریکنگ سگنل بند کرنے کے بعد دوبارہ خلیج میں داخل ہوا۔ماہرین کے مطابق اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ قطر آبنائے ہرمز کی بحالی کے بعد اپنی ایل این جی برآمدات میں تیزی لانے کی تیاری کر رہا ہے۔
ایران میں جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی ایل این جی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد متاثر کر دیا تھا۔ محدود تعداد میں صرف وہی جہاز گزر سکے تھے جنہیں تہران کی اجازت حاصل تھی یا جنہوں نے اپنی نقل و حرکت کو خفیہ رکھنے کے لیے ٹرانسپونڈر سگنلز بند کر دیے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز کھلتے ہی قطر کی ایل این جی پیداوار بحال کرنے کی تیاری
ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ عبوری امن معاہدے میں آبنائے ہرمز کو جلد از جلد مکمل طور پر کھولنے پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے بعد توانائی کی عالمی منڈیوں میں اعتماد بحال ہونا شروع ہو گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق قطر آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلنے کے بعد دو ماہ کے اندر اپنی زیادہ تر ایل این جی برآمدی صلاحیت بحال کرنا چاہتا ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف جہازوں کو دوبارہ خلیج فارس کی جانب روانہ کیا جا رہا ہے۔
جنگ کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی خالی قطری ایل این جی ٹینکر خلیج فارس میں واپس داخل ہوا ہے، جبکہ رواں ہفتے کئی دیگر خالی جہاز بھی قطر سے منسلک راستوں پر مشرق وسطیٰ کی جانب بڑھتے دیکھے گئے ہیں۔












