
از: سہیل شہریار
ترکیہ کےڈرون جنگی جہاز کزلیلما کو عالمی دفاعی صنعت میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے جو مستقبل میں فضائی طاقت کا تصور بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس جہاز کی تیاری کی تحقیق میں پاکستان کا بھی حصہ ہے۔کزلیلماایک جدید ترین اسٹیلتھ جنگی ڈرون ہے جو بائیکر ڈیفینسز نے تیار کیا ہے۔ جس نے حال ہی میں ریڈار پر موجودایف۔ 16 جیسے ہدف کو نشانہ بنانے اور ورچوئل میزائل داغنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ جو فضائی جنگ کے مستقبل میں ایک بڑا قدم ہے۔ یہی نہیںاسے بحری جہازوں سے اڑنے کی صلاحیت بھی حاصل ہے۔
کزلیلما کے دنیا کا پہلا جنگی ڈرون جہاز ہونے کے دعویٰ کے بارے میں دفاعی تجزیہ کار وں کی رائے ہے کہ امریکہ اور چین اس شعبے میں بہت زیادہ ترقی کرچکے ہیں۔ خصوصاً چین اپنی دفاعی شعبے کی ترقی کو دنیا سے اوجھل رکھتا ہے۔جبکہ اسرائیل بھی ڈرون ٹیکنالوجی میں بہت زیادہ پیش رفت کر چکا ہے۔ ترکی زبان میں کزلیلما کا مطلب سرخ سیب ہے جسے فتح و کامیابی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
ترکیہ کے ڈرون لڑاکا جہاز کی اہم خصوصیات میںاسٹیلتھ ٹیکنالوجی سب سے نمایاں ہے جس کی مدد سے اسے ریڈار پر کم دیکھا جا سکتا ہے۔ کزلیلماخود مختار فضائی کارروائیاںیعنی بغیر پائلٹ کے فضائی لڑائی کے مشن انجام دے سکتا ہے، جو پہلے صرف پائلٹ والے طیاروں تک محدود تھے۔یہ ڈرون لڑاکا جہازترک ساختہ جدید مراد ریڈار اور گوکدوعان میزائلوں سے لیس ہے جو 50کلو میٹر تک ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔بحری جہازوں سے آپریشن بھی اس کی اہم خصوصیت ہے کیونکہاس میںکم جگہ سے ٹیک آف اور لینڈنگ کی صلاحیت موجود ہے۔ جس سے اس کی آپریشنل استعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مئی 2025کی چار روزہ پاک بھارت جنگ اور گذشتہ تین برسوں سے جاری روس یوکرین جنگ نے ثبت کر دیا ہے کہ مستقبل کی جنگوں مین ڈرون تیکنالوجی کلیدی کردار کی حامل ہوگی ۔ کیونکہ اس میںنہ صرف خطرہ کم ہوتا ہے بلکہ لاگت بھی کم ہوتی ہے۔اور یہ بغیر پائلٹ والے طیارے رافیل جیسے مہنگے لڑاکا طیاروں کے مقابلے میں کہیں سستے پڑتے ہیں۔چنانچہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ڈرون ٹیکنالوجی آئندہ جنگوں کا نیا چہرہ ہے۔
یاد رہے کہ تقریباً سات آٹھ سال پہلے جب کزلیلما کی تیاری کے لئے تحقیق شروع ہوئی تو پاکستان نے بھی اس میں حصہ لیا تھا کیونکہپاکستان کو بھی غیر پائلٹ والے لڑاکا ڈورن طیارے میں دلچسپی ہے۔ تاہم دونوں برادر ملکوں کے درمیان اس منصوبے میں تعاون کب تک جاری رہا اس بارے میں قابل تصدیق معلومات دستیاب نہیں۔تاہم یہ واضح ہے کہ پاکستان اور ترکی کے مابین اس صنت میں مشترکہ تعاون جاری ہے اور پاکستان نے ترک ڈرونز خریدے ہیں اور اس کے علاوہ دونوں ممالک میں ’ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی‘ کا معاہدہ بھی موجود ہے۔












