واشنگٹن :(پاک ترک نیوز)بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنی تازہ ترین ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں 2026 کے لیے جی20 ممالک کی حقیقی معاشی ترقی (ریئل جی ڈی پی گروتھ) کے نئے تخمینے پیش کیے گئے ہیں۔
یہ اعداد و شمار اس بات کی واضح تصویر پیش کرتے ہیں کہ آئندہ سال عالمی معیشت کس سمت میں جا رہی ہے اور بڑے ممالک ایک دوسرے کے مقابلے میں کہاں کھڑے ہوں گے۔
آئی ایم ایف کے مطابق 2026 میں عالمی معیشت کی مجموعی شرحِ نمو 3.1 فیصد رہنے کا امکان ہے، تاہم یہ ترقی یکساں نہیں ہوگی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ابھرتی ہوئی معیشتیں عالمی ترقی کا اصل انجن بننے جا رہی ہیں، جبکہ کئی ترقی یافتہ ممالک کی رفتار عالمی اوسط سے بھی کم رہنے کی توقع ہے۔
تخمینوں کے مطابق بھارت 6.2 فیصد شرحِ نمو کے ساتھ جی20 ممالک میں سرفہرست رہے گا۔ اس کے بعد انڈونیشیا 4.9 فیصد اور چین 4.2 فیصد ترقی کے ساتھ نمایاں پوزیشن پر موجود ہیں۔
ارجنٹینا اور سعودی عرب دونوں کی متوقع شرحِ نمو 4 فیصد بتائی گئی ہے، جبکہ ترکی 3.7 فیصد کے ساتھ اگلی صف میں شامل ہے۔
اس کے برعکس امریکا اور آسٹریلیا کی معیشتوں میں 2.1 فیصد ترقی متوقع ہے، جو اگرچہ یورپ کے کئی ممالک سے بہتر ہے، تاہم مجموعی طور پر اسے معتدل رفتار قرار دیا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی مجموعی ترقی 1.4 فیصد رہنے کا امکان ہے، جبکہ فرانس اور جرمنی جیسے بڑے یورپی ممالک کی شرحِ نمو ایک فیصد سے بھی کم بتائی گئی ہے۔ جاپان، جسے آبادی میں کمی اور کمزور اندرونی طلب جیسے مسائل کا سامنا ہے، 2026 میں صرف 0.6 فیصد ترقی کر سکے گا۔
رپورٹ کے مطابق بھارت کی نمایاں کارکردگی محض عارضی نہیں بلکہ عالمی معاشی طاقت میں طویل المدتی تبدیلی کا حصہ ہے۔ بڑھتی ہوئی مڈل کلاس، نوجوان آبادی اور عالمی سپلائی چینز میں بڑھتا ہوا کردار بھارت کو عالمی معیشت میں مرکزی حیثیت دے رہا ہے۔ اسی طرح چین بھی عالمی جی ڈی پی میں اپنا حصہ مسلسل بڑھا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تخمینے عالمی معاشی ترقی میں بڑھتے ہوئے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں 2026 میں ابھرتی ہوئی معیشتیں زیادہ رفتار کے ساتھ آگے بڑھیں گی، جبکہ ترقی یافتہ ممالک کو سست روی اور ساختی مسائل کا سامنا رہے گا۔












