لاہور( پاک ترک نیوز) پاکستان میں تیزی سے بدلتی معیشت کے ساتھ ادائیگی کے طریقے بھی جدید ہونے لگے ،نقد رقم کی جگہ اب موبائل فونز نے لے لی ، ڈیجیٹل ادائیگیوں کا رجحان روز بروز بڑھنے لگا
شہری علاقوں سے لے کر چھوٹے قصبوں تک، لوگ اب کیش کے بجائے موبائل ایپس کے ذریعے ادائیگیاں کر رہے ہیں۔ یوٹیلیٹی بلز، خریداری، آن لائن شاپنگ حتیٰ کہ چھوٹے دکاندار بھی ڈیجیٹل پیمنٹس کو ترجیح دینے لگے۔
موبائل بینکنگ، کیو آر کوڈز اور والٹس کے استعمال میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس نے لین دین کو نہ صرف آسان بلکہ تیز تر بھی بنا دیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے اب ہمیں کیش رکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی، موبائل سے ہی سب کچھ ہو جاتا ہے، وقت بھی بچتا ہے اور سہولت بھی ہے۔
ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ سے نہ صرف معیشت دستاویزی شکل اختیار کر رہی ہے بلکہ ٹیکس نظام میں بہتری کی بھی امید ہے۔ حکومت اور مالیاتی ادارے بھی اس رجحان کو مزید فروغ دینے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
ماہرین معاشیات کا کہناہے ڈیجیٹل پیمنٹس سے شفافیت آتی ہے، کرپشن کم ہوتی ہے اور معیشت مضبوط ہوتی ہے۔
تاہم دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ کی کمی اور ڈیجیٹل خواندگی کا فقدان اب بھی ایک چیلنج ہے، جس پر قابو پانا ضروری ہے تاکہ ہر طبقہ اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکے۔
ڈیجیٹل پاکستان کا خواب حقیقت بنتا دکھائی دے رہا ہے… سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس تبدیلی کو مکمل طور پر اپنا پائیں گے یا روایتی نظام ہی غالب رہے گا؟












