تہران ( پاک ترک نیوز) آج ایران کی فضائیں سوگ میں ڈوبی ہوئی ہیں۔۔۔ ہر آنکھ اشکبار ہے، ہر دل غم سے بوجھل۔۔۔ گلیوں، بازاروں اور شاہراہوں پر صرف ایک ہی نام گونج رہا ہے۔۔۔ رہبرِ انقلاب آیت اللہ خامنہ ای۔۔۔ جنہیں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں عقیدت مند آخری سلام پیش کرنے کے لیے تہران پہنچ رہے ہیں۔
امام خمینی حسینیہ سینٹر میں آیت اللہ خامنہ ای کا جسدِ خاکی رکھ دیا گیا ہے، جہاں ہزاروں افراد اشک بار آنکھوں کے ساتھ آخری دیدار کر رہے ہیں۔ خواتین، بزرگ، نوجوان اور بچے سب ہی غم سے نڈھال دکھائی دیتے ہیں۔ ایران کے مختلف شہروں سے قافلوں کی صورت میں لوگ تہران پہنچ رہے ہیں جبکہ دنیا بھر سے بھی اہم شخصیات کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔
حکام کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کے جسدِ خاکی کو تہران سے مقدس شہر قم لے جایا جائے گا، جہاں علماء اور زائرین انہیں خراجِ عقیدت پیش کریں گے۔ اس کے بعد عراق کے مقدس شہروں نجف اشرف اور کربلا میں بھی آخری حاضری دی جائے گی، جہاں لاکھوں عزادار ان کے لیے دعائیں کریں گے۔ تدفین نو جولائی کو ان کے آبائی شہر مشہد میں کی جائے گی۔
تہران میں تاریخی اجتماع کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق آخری رسومات میں تقریباً دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے، جبکہ سو سے زائد ممالک کے سربراہان، وزرائے خارجہ، مذہبی شخصیات اور عالمی رہنما بھی شریک ہوں گے۔ ایران کے لیے یہ صرف ایک جنازہ نہیں بلکہ تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان بھی اس غم کی گھڑی میں ایران کے ساتھ کھڑا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف بھی آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شرکت کریں گے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزراء اور بلاول بھٹو زرداری بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہوں گے۔ وزیراعظم ایرانی قیادت اور سوگوار خاندانوں سے ملاقات کر کے حکومت اور عوامِ پاکستان کی جانب سے تعزیت اور مکمل یکجہتی کا اظہار کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:آیت اللہ علی خامنہ ای کا جسدخاکی نماز جنازہ کیلئے مسجد منتقل
ایران میں سکیورٹی کو غیر معمولی سطح پر سخت کر دیا گیا ہے۔ تہران اور دیگر شہروں میں اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔ فضائی حدود کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے جبکہ سرحدوں پر بھی حفاظتی انتظامات مزید مضبوط بنا دیے گئے ہیں تاکہ دنیا بھر سے آنے والے معزز مہمانوں اور لاکھوں عزاداروں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
ذرائع کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای سکیورٹی خدشات کے باعث اپنے والد کی تعزیتی تقریبات میں عوامی سطح پر شریک نہیں ہوں گے۔ ایرانی حکام نے اس حوالے سے غیر معمولی حفاظتی اقدامات اختیار کیے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
ایران میں ایک عہد اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔۔۔ ایک ایسی شخصیت رخصت ہو رہی ہے جس نے کئی دہائیوں تک ایران کی سیاست، مذہبی قیادت اور عالمی معاملات پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ آج تہران اشکبار ہے، قم منتظر ہے، نجف و کربلا دعاؤں میں مصروف ہیں، ۔ رہبرِ انقلاب کو الوداع کہنے کے لیے صرف ایران ہی نہیں، پوری دنیا کی نظریں اس تاریخی لمحے پر جمی ہوئی ہیں۔












