اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) دہشت گردی کا نیٹ ورک بے نقاب ہو گیا، خارجی سہولت کار نے بھتہ خوری اور من پسند فتوؤں سے متعلق اہم انکشافات کر دیئے ،دہشتگردی کیلئے مذہب کی آڑ میں مقامی خارجی سہولت کار غیر قانونی مدارس کے ذریعے فتویٰ کا سہارا لینے لگے۔
فتنہ الخوارج کی سہولت کاری میں ملوث گرفتار خود ساختہ مولوی ظفر یاب کا تعلق جامع نظام العلوم بنوں سمیت جمعیت علمائے اسلام کے ایک گروپ سے ہے،گرفتار خارجی سہولت کار کے انکشافات کے بعد غیر قانونی مدارس کو نیشنل ایکشن پلان کے تحت ڈی جی آر ای کے دائرہ کار میں لانا ناگزیر ہو گیا۔
خارجی سہولت کار نے انکشاف کیا ہے کہ میں نے درس نظامی آٹھ سالہ جامع نظام العلوم شعبہ یتیم خانہ بنوں شہر سے حاصل کی، تین سالہ تخصص فی الفقہ المرکز اسلامی غوریوالہ سے حاصل کی ، گرفتار خارجی سہولت کار مفتی ظفریاب نے اعتراف کیا ہے کہ وہ خارجی کمانڈر حکمت روشان کا سرگرم ساتھی اورگل بہادرشوریٰ کا رکن رہا ہے
خارجی سہولت کار کے مطابق خارجی کمانڈر جہاد کے نام پربھتہ خوری، سرمایہ داروں کو دھمکانے کیلئے مجھ سے غیر شرعی فتوے حاصل کرتے تھے، خارجی کمانڈر حکمت روشان اس مقصد کیلئے مجھ سمیت مختلف افراد کو لالچ، عہدوں اور مالی فوائد کی پیشکش بھی کرتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں بارشیں ،حادثات میں اموات کی تعداد 8ہو گئی
خارجی سہولت کار نے کہافتنہ الخوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، یہ غیر اسلامی نظریات کے حامل عناصر ہیں جو مسلمانوں کے قتل کو بھی جائز قرار دیتے ہیں۔
ماہرین کی رائے کے مطابق گرفتار خارجی سہولت کار کے انکشافات سے واضح ہے کہ دہشتگرد غیر قانونی مدارس اور وہاں موجود خود ساختہ مفتیان کو اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں
وفاق المدارس العربیہ سمیت پاکستان کے تمام دینی مدارس کی نمائندہ تنظیموں کے درمیان غیر قانونی مدارس کی رجسٹریشن کا معاہدہ 2019ء سے نافذ العمل ہے، تمام غیر قانونی مدارس اور ان سے منسلک سیاسی جماعتوں کی شفاف سکروٹنی ضروری ہے تاکہ شدت پسندی اور دہشتگردی کی معاونت کا تدارک کیا جا سکے،پاکستان میں مدارس کی حکومتی نگرانی، نصاب کی یکسانیت اور معیارِ تعلیم کو بہتر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔












