
از : سہیل شہریار
جدید جنگی ہتھیاروں کے استعمال اور دور سے دشمن کے گھر میں اندر تک اہداف کو نشانہ بنانے کے لئےپاکستان نے بھی پاک فوج کے اندر نئی آرمی راکٹ فورس(اے آر ایف) کے قیام کو عملی جامہ پہنانا شروع کر دیا ہے۔جس کے قیام کا اعلان وزیر اعظم شہباز شریف نے 14اگست کو ملک کے 79 ویں یوم آزادی کے موقع پر کیا تھا۔یہ فورس بھارت کی اینٹی گریٹڈ راکٹ فورس (آئی آر ایف)کا توڑ کرے گی جس کاقیام 2021میں عمل میں آیا تھا۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مئی 2025 میں معرکہ حق کے دوران دونوں ملکوںنے ایک دوسرے کے خلاف طویل فاصلے تک مار کرنے والےمیزائلوں کازمین اور فضا سے استعمال کیا تھا۔جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہوتا ہے نئی فورس پاکستان آرمی کے براہ راست آپریشنل کنٹرول میں ہوگی۔جسے ہندوستانی علاقے کے اندر گہرائی میں واقع اہداف کے خلاف روایتی فوجی حملے کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اسی لئے اے آر ایف پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی کمانڈ اور کنٹرول کے لیے ذمہ دار اعلیٰ ادارہ نیشنل کمانڈ اتھارٹی (این سی اے) کے دائرہ کار میںنہیں ہوگی۔ یہ صرف راکٹوں اور میزائلوں سے لیس فورس ہو گی جو روایتی وار ہیڈ لے جا سکیں گے۔چنانچہ یہ پاکستان آرمی جنرل ہیڈ کوارٹرز کے کنٹرول میں ایک الگ کمانڈ ہوگی۔ اور اس کا ہیڈ کوارٹربھی الگ ہوگا۔
ائر ڈیفنس ٹیکنالوجی کے ماہرین کا خیال ہے کہ حالیہ پاک بھارت چار روز ہ جھڑپوں میں بھارت کے دوہری صلاحیت کے حامل برہموس کروز میزائل کے موثر استعمال نے اسلام آباد کو بھارت کے مستقبل کے روایتی میزائل ردعمل کا مقابلہ کرنے کے لیے فتح۔ون، فتح۔ٹو، اور فتح۔فورجیسے روایتی میزائل نظاموں سے لیس ایک نئی کمانڈ قائم کرنے کی ترغیب دی ہے۔ ان میں فتح۔ون اور فتح۔ٹو بلترتیب 140 اور 400 کلومیٹر کی رینج کے ساتھ طویل فاصلے تک چلنے والے گائیڈڈ راکٹ ہیں۔ جبکہ فتح۔فور ایک کروز میزائل ہے جس کی 750 کلومیٹر رینج میں صرف 5 میٹر سرکلر ایرر پروبیبل (CEP) ہے۔
اس نئی فورس کی تشکیل کے پیچھے بنیادی مقصد ان خطرات سے نمٹنا ہے جو حکمت عملی اور تزویراتی سطح کی بجائے آپریشنل سطح پر پیدا ہوتے ہیں۔چنانچہ اے آر ایف کا کردار روایتی توپ خانے کی حد سے باہر، بھارت کے اندر گہرائی تک فوجی اہداف پر توجہ مرکوز کرے گا۔ اسکے ساتھ اے آر ایف کے راکٹوںکو دشمن کے میزائل حملوں کو ناکام بنانے کے لئے بھی بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔یہ اس لئے ممکن ہے کیونکہ اے آر ایف کی کمان کے تحت میزائل اور راکٹ نظام طویل فاصلے تک اور متعدد مشنوں اور کرداروں کے لیے مختلف سینسرز کے ساتھ مربوط ہو سکتے ہیں۔ جبکہ آپریشن بنیان ام مرسوس کے دوران ہندوستان کے اندر اہداف کو نشانہ بنانے والے فتح گائیڈڈ میزائلز کی شاندار کارکردگی کمانڈ کی ساکھ کا ثبوت ہے۔
https://www.youtube.com/watch?v=rbRlYBHzjIA
رپورٹس کے مطابق بھارت پاکستان کے خلاف حملے کرنے کے لیے ایک متحرک ردعمل کی حکمت عملی (ڈی آر ایس) کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد 2035 تک ہندوستان کے اہم سیکورٹی مقامات اور اہم بنیادی ڈھانچے کے ارد گرد ایک مقامی فضائی دفاعی نظام تیار کرنا ہے۔
جواباً پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی روایتی میزائل قوت کو متنوع بنائے اور خطے میں روایتی ڈیٹرنس کو مستحکم کرنے کے لیے سپر سونک کروز اور ہائپر سونک میزائل تیار کرے۔ ان خصوصیات کے حامل میزائلوں کو ہندوستان کے مربوط فضائی دفاعی نظام کے لیے روکنا مشکل ہوگا۔












