
از : سہیل شہریار
بھارت کے معاندانہ طرز عمل کے نتیجے میں لگ بھگ ایک دہائی سے تعطل کا شکار جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون کی تنظیم (سارک ) کی جگہ لینے کے لئے ایک نئی تنظیم کے قیام کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں اور توقع کی جارہی ہے کہ آنے والے چھ ماہ میں اس کا باقاعدہ اعلان بھی کر دیا جائے گا۔
چین ، پاکستان اور بنگلہ دیش اس نئی علاقائی تنظیم کے قیام کی تجویز پر کام کر رہے ہیں جو ممکنہ طور پر اب ناکارہ ہو چکیسارک تنظیم کی جگہ لے گی۔سفارتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد ،بیجنگ اور ڈھاکہ کے درمیان بات چیت اب ایک اعلیٰ مرحلے پر ہے کیونکہتینوں ملکوں کا اس امر پراتفاق پایا جاتا ہے کہ علاقائی تعاون ترقی اور رابطوںکے لیے ایک نئی تنظیم وقت کی ضرورت ہے۔
چین کے شہر کن منگ میں پاکستان، چین اور بنگلہ دیش کا حالیہ سہ فریقی اجلاس انہی سفار تی کوششوں کا حصہ تھا۔تینوں ملکوں کے اعلیٰ سفارتکاروں کے اپنی نوعیت اس پہلے بڑے اجلاس نے خطے میں بھارت کے بڑھتے ہوئےاحساس تنہائی میں اور اضافہ کر دیا ہے۔19 جون کو کن منگ میں ہونے والی میٹنگ کا حتمی مقصد جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کو جو سارک کا حصہ تھے کو نئے گروپ میں شامل ہونے کی دعوت دینا تھا۔جس کے لئے رابطہ کاری کا کام تیزی سے مکمل کیا جا رہا ہے۔اس وقت تک سارک کے رکن ملکوں سری لنکا، مالدیپ، افغانستان، نیپال اور بھوٹان سے رابطے کئے جا چکے ہیں۔اور ابتدائی مرحلے میں پہلے تین ملکوں کے گروپ کا حصہ بننے کی امید ہے۔ اس مرحلے پر اسکی دیگر دلچسپیوں کو دیکھتے ہوئے بھارت کے ساتھ رابطہ نہیں کیا جا رہا ۔البتہ اسے بعد میں تنظیم میں شمولیت کی دعوت دی جائے گی ۔مگر بھارت کی جانب سے اسے قبول کئے جانے کا امکان کم ہے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مخاصمانہ تعلقات کا یرغمال بن جانے کے بعد سارک اپنے بیان کردہ مقاصد حاصل کرنے میںمکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ چنانچہ نئی تنظیم کے قیام کا بنیادی مقصد رابطوں کے ذریعے ترقی میں باہمی تعاون کے فروغ اور بہتر تجارت سے زیادہ سے زیادہ علاقائی مشغولیت حاصل کرنا ہے۔اور جس لمحے یہ تجویز عملی شکل اختیار کرے گی تو سارک جسے کبھی جنوبی ایشیا کی یورپی یونین کہا جاتا تھا۔ وہ عملاً ختم ہو جائے گی۔
ہندوتوا کے پجاری بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے سارک کو علاقائی چوہدراہٹ کاذریعہ بنانے کے لئے تنظیم کے چھوٹے رکن ملکوں پر دباؤ ڈالنے کے نتیجے میں نومبر 2016میںاسلام آباد میں منعقد ہونے والی سارک کی 19ویں سربراہی کانفرنس میں بھارت کے ایما پر تین دیگر ملکوں افغانستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا نے بھی شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تو یہ درحقیقت سارک تنظیم کی موت کا اعلان تھا۔کیونکہ اس کے بعد اب تک دس سالوں میں یہ ایک عضو معطل میں تبدیل ہو چکی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ سارک کے غیر فعال ہونے کے بعد خلا پیدا ہو گیا ہے۔ چنانچہ جنوبی ایشیا میں علاقائی رابطوں اور باہمی تعاون کے فروغ کے لئے ایک زیادہ فعال اور تمام رکن ممالک کے لئے یکساں امکانات کے حامل پلیٹ فارم کی ضرورت دو چند ہو گئی ہے۔
تاہم علاقائی و بین الاقوامی امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ بھارت اپنےمخصوص مفادات کی وجہ سے شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن (ایس سی او) جیسے علاقائی گروپوں میں خود کو مس فٹ سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نے گزشتہ دو ایس سی اوسربراہی اجلاسوں میں شرکت نہیں کی۔اس 10 رکنی سکیورٹی اتحاد میں چین، روس، ایران، پاکستان اور وسط ایشیائی ریاستیں شامل ہیں۔مغرب میںچین اور روس کی موجودگی کی بنا پر اس اس اتحاد کو اکثر مغرب کو چیلنج کرنے کے لیے علاقائی بلاک کے طور پردیکھا جاتا ہے۔ اور بات بھارتی خارجہ پالیسی سے متصاد م ہے۔







