ڈیووس:(پاک ترک نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی ممالک کے خلاف ٹیرف لگانے کی دھمکی واپس لے لی ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ گرین لینڈ پر قبضے کے لیے طاقت کا استعمال نہیں کریں گے۔
یہ ایک حیران کن یوٹرن ہے، کیونکہ اس تنازع نے دہائیوں میں پہلی بار امریکا اور یورپ کے تعلقات کو شدید ترین تناؤ تک پہنچا دیا تھا۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کے ساتھ گرین لینڈ اور وسیع تر آرکٹک خطے سے متعلق مستقبل کے ایک معاہدے کے “فریم ورک” پر اتفاق کر لیا ہے، جس کے بعد وہ یورپی ممالک پر مجوزہ ٹیرف عائد نہیں کریں گے۔
ٹرمپ نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر روٹے سے ملاقات کے بعد ٹروتھ سوشل پر لکھا:“اگر یہ حل عملی شکل اختیار کر لیتا ہے تو یہ امریکا اور تمام نیٹو ممالک کے لیے ایک بہترین معاہدہ ہوگا۔”
ٹرمپ کے مطابق بات چیت میں ان کے مجوزہ میزائل دفاعی نظام “گولڈن ڈوم” اور گرین لینڈ سے متعلق امور بھی شامل تھے، تاہم فریم ورک کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
ڈیووس میں صحافیوں سے مختصر گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ فریم ورک میں “سیکیورٹی، معدنیات اور دیگر تمام امور” شامل ہیں۔فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں نیٹو چیف مارک روٹے نے بھی فریم ورک کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا اور اس سوال کا جواب ٹال دیا کہ آیا امریکا گرین لینڈ کی ملکیت حاصل کرے گا یا نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بات چیت کا محور پورے آرکٹک خطے کا تحفظ ہے، نہ کہ صرف گرین لینڈ۔نیٹو کی ترجمان ایلیسن ہارٹ نے بتایا کہ روٹے نے گرین لینڈ کی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتا پیش نہیں کیا۔
ان کے مطابق یہ ملاقات نتیجہ خیز رہی اور فریم ورک اتحادی ممالک کی مشترکہ کوششوں کے ذریعے آرکٹک سیکیورٹی کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہوگا۔ہارٹ نے کہا کہ ڈنمارک، گرین لینڈ اور امریکا کے درمیان مذاکرات جاری رہیں گے، جن کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ روس اور چین معاشی یا عسکری طور پر گرین لینڈ میں قدم نہ جما سکیں۔
ٹرمپ گزشتہ کئی ہفتوں سے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی دھمکیاں دے رہے تھے، جس سے نیٹو کے مستقبل اور تقریباً 1.7 ٹریلین ڈالر کی ٹرانس اٹلانٹک تجارت پر سوالات کھڑے ہو گئے تھے۔انہوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر امریکا کو گرین لینڈ خریدنے پر اتفاق نہ ہوا تو وہ یکم فروری سے ڈنمارک اور سات دیگر یورپی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف اور یکم جون سے 25 فیصد ٹیرف عائد کر دیں گے۔
ٹرمپ بارہا ڈنمارک پر الزام لگا چکے ہیں کہ وہ آرکٹک میں گرین لینڈ کے پانیوں کی حفاظت کے لیے ناکافی اقدامات کر رہا ہے، جبکہ ان کے بقول چین اور روس کی سرگرمیوں کے تناظر میں یہ جزیرہ امریکا کی سیکیورٹی کے لیے نہایت اہم ہے۔
ڈنمارک نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے کہ گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں ہے اور طاقت کے ذریعے قبضے کی کسی بھی کوشش کا مطلب نیٹو کا خاتمہ ہوگا۔ٹیرف واپس لینے کا اعلان اس کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا جب ٹرمپ نے ڈیووس میں عالمی رہنماؤں سے خطاب میں کہا کہ وہ گرین لینڈ کو ضم کرنے کے لیے طاقت استعمال نہیں کریں گے، اگرچہ انہوں نے اصرار کیا کہ صرف امریکا ہی اس معدنیات سے مالا مال خطے کو “محفوظ” بنا سکتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا:“لوگ سمجھتے تھے میں طاقت استعمال کروں گا، مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ میں طاقت استعمال نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی کروں گا۔”












