واشنگٹن/انقرہ: (پاک ترک نیوز)اسرائیل کی شدید مخالفت کے باوجود امریکا نے ایک بار پھر اشارہ دیا ہے کہ وہ ترکی کو جدید ترین F-35A اسٹیلتھ جنگی طیارے فروخت کرنے کے معاملے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔
اس بات کی تصدیق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے فلوریڈا میں ملاقات کے دوران کی، جہاں انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ “انتہائی سنجیدگی سے زیرِ غور ہے۔”
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل خطے میں واحد F-35 رکھنے والے ملک کی حیثیت برقرار رکھنا چاہتا ہے تاکہ اپنی ٹیکنالوجیکل برتری محفوظ رکھ سکے۔
تاہم، امریکی اشاروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اس موقف سے آگے بڑھنے پر غور کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ 2019 میں ترکی کو امریکی قیادت میں چلنے والے F-35 پروگرام سے اس وقت نکال دیا گیا تھا جب انقرہ نے روس سے S-400 فضائی دفاعی نظام خریدا، جس کے بعد امریکا نے CAATSA قانون کے تحت پابندیاں عائد کر دیں۔
امریکی خدشہ تھا کہ روس ان طیاروں کی حساس اسٹیلتھ ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔امریکی حکام کے مطابق، ترکیہ کی ممکنہ واپسی کے لیے بنیادی شرط یہ رکھی گئی ہے کہ S-400 سسٹمز یا تو مکمل طور پر ختم کیے جائیں یا انہیں امریکی کنٹرول میں دیا جائے۔
حالیہ دنوں میں ترکیہ میں امریکی سفیر ٹام بیرک نے عندیہ دیا ہے کہ انقرہ ان نظاموں کو اپنے دفاعی ذخیرے سے نکالنے کی سمت اقدامات کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں پابندیاں اٹھائے جانے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
ان کے مطابق یہ مسئلہ آئندہ چار سے چھ ماہ میں حل ہو سکتا ہے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ذاتی تعلقات اس معاملے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
گزشتہ برس دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں F-35 پروگرام اور CAATSA پابندیاں زیرِ بحث آئیں، جس کے بعد اردوان نے امید ظاہر کی تھی کہ یہ مسئلہ حل ہو جائے گا اور ترک-امریکی تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہوں گے۔
تاہم، یہ مثبت امریکی-ترک فضا اسرائیل اور ترکی کے درمیان شدید کشیدگی کے بالکل برعکس ہے۔ صدر اردوان غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں پر کھل کر تنقید کرتے رہے ہیں اور انہیں فلسطینی عوام کے خلاف سنگین جرائم قرار دے چکے ہیں۔ اس کے علاوہ شام کے معاملے پر بھی دونوں ممالک آمنے سامنے ہیں۔












