واشنگٹن/ٹیکساس: (پاک ترک نیوز)امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ایل پاسو کی فضائی حدود کو اچانک بند کیے جانے کے واقعے نے شدید سوالات کو جنم دے دیا ہے۔
فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) نے ابتدائی طور پر 10 دن کے لیے فضائی حدود کی بندش کا اعلان کیا، مگر آٹھ گھنٹے سے بھی کم وقت میں یہ پابندی واپس لے لی گئی، جس سے الجھن اور قیاس آرائیوں میں اضافہ ہوگیا۔
رپورٹس کے مطابق فضائی حدود کی بندش کی اصل وجہ امریکی فوج کا نیا لیزر بیسڈ اینٹی ڈرون سسٹم تھا، جس کے باعث کمرشل طیاروں کو ممکنہ خطرات لاحق ہو سکتے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پینٹاگون نے اس سسٹم کی تنصیب اور آزمائش FAA کی حتمی منظوری سے قبل شروع کر دی، جس پر ایوی ایشن حکام نے فوری طور پر پروازیں روک دیں۔
10 فروری کی رات تقریباً ساڑھے گیارہ بجے ایل پاسو انٹرنیشنل ایئرپورٹ آنے اور جانے والی تمام پروازیں معطل کر دی گئیں۔ پابندی تقریباً 16 کلومیٹر کے دائرے میں نافذ کی گئی اور 18 ہزار فٹ سے نیچے پرواز کرنے والے تمام طیارے اس کی زد میں آئے۔
امریکی وزیر ٹرانسپورٹ شان ڈفی نے دعویٰ کیا کہ میکسیکن منشیات کارٹیل کے ڈرونز امریکی فضائی حدود میں داخل ہوئے تھے اور خطرے کو “غیر مؤثر” بنا دیا گیا ہے۔ تاہم کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق اصل معاملہ محکمہ دفاع کے ہائی انرجی لیزر ٹیسٹ اور فوجی ڈرون پروازوں سے جڑا تھا، جو معمول کے فضائی راستوں سے ہٹ کر چل رہی تھیں۔
ایل پاسو کی رکن کانگریس ویرونیکا ایسکوبار نے حکومتی وضاحت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ “وفاقی حکومت کی معلومات میں تضاد ہے اور کمیونٹی وضاحت کی مستحق ہے۔” شہر کے میئر رینارڈ جانسن نے اس اقدام کو “غیر ضروری اور افراتفری پیدا کرنے والا” قرار دیا۔
میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام نے امریکی دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ سرحد پر ڈرون مداخلت سے متعلق کوئی مصدقہ اطلاع موجود نہیں۔ماہرین کے مطابق سرحدی علاقوں میں ڈرون سرگرمیاں غیر معمولی نہیں، تاہم کسی بڑے شہر کی فضائی حدود کو اس پیمانے پر بند کرنا ماضی میں صرف 11 ستمبر 2001 کے بعد دیکھنے میں آیا تھا۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے ابتدائی 11 ماہ میں تقریباً 35 لاکھ مسافروں نے ایل پاسو ایئرپورٹ سے سفر کیا۔ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ کارٹیل ڈرونز نہ صرف نگرانی بلکہ منشیات کی ترسیل اور بعض علاقوں میں دھماکہ خیز مواد گرانے کے لیے بھی استعمال ہو رہے ہیں۔ ایسے میں ایل پاسو کا واقعہ امریکی قومی سلامتی، فضائی تحفظ اور سرحدی کشیدگی کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔












