تہران /واشنگٹن : (پاک ترک نیوز)کیا مشرقِ وسطیٰ ایک اور بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے؟ کیا ایران پر حملہ واقعی چند گھنٹوں کی دوری پر ہے؟ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور واشنگٹن سے آنے والی اطلاعات نے عالمی سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ طیارہ بردار بحری بیڑا USS George H. W. Bush کو خلیجی خطے کی جانب بھیجنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
اس سے قبل USS Abraham Lincoln پہلے ہی خطے میں موجود ہے۔ دو بڑے طیارہ بردار بیڑوں کی بیک وقت موجودگی کو دفاعی ماہرین غیر معمولی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے تہران کو پیغام دیا گیا ہے کہ وہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے، بصورت دیگر سخت اقدامات کے لیے تیار رہے۔
بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ سفارتی بیانات دراصل عسکری دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ خطے کے چند ممالک نے اپنی سرزمین کو ممکنہ کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے گریز کیا، جس کے بعد امریکا نے بحری طاقت بڑھانے کا فیصلہ کیا۔
ان بحری بیڑوں کے ساتھ لڑاکا طیارے، میزائل بردار جنگی جہاز اور آبدوزیں بھی تعینات ہوتی ہیں، جو کسی بھی ممکنہ کارروائی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ تاہم ابھی تک کسی باضابطہ حملے کا اعلان نہیں کیا گیا اور صورتحال سفارتی و عسکری بیانات تک محدود ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ محض طاقت کا مظاہرہ ہے یا واقعی کوئی بڑا قدم اٹھایا جا سکتا ہے؟ کیا مذاکرات کسی ممکنہ تصادم کو روک پائیں گے یا خطہ ایک نئے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے؟ آنے والے دن فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ حالات پر گہری نظر رکھنا ضروری ہے کیونکہ ہر بیان اور ہر پیش رفت عالمی سیاست کا رخ بدل سکتی ہے۔












