
از : سہیل شہریار
برطانیہ کےہاتھوں 1878 کی جنگ میں شکست کے بعد برطانیہ کی جانب سے عبدالرحمان خان کو نیا امیر بنائے جانے کے نتیجے میں برطانیہ اور افغانستان کے درمیان ڈیورنڈ لائن معاہدہ طے پایا جو صرف ایک صفحے پر مشتمل ہے اور اس پر امیر عبدالرحمان خان اور برطانوی ہند کے سیکرٹری خارجہ سر ہنری مارٹیمر ڈیورنڈ کے دستخط موجود ہیں۔
آگے بڑھنے سے پہلے ایک بات کی وضاحت کردیں کہ افغانوں کا یہ دعویٰ سراسر جھوٹا ہے کہ انہیں کبھی شکست نہیں ہوئی ۔سچ یہ ہے کہ وہ اپنی تاریخ کا بڑا حصہ ایرانیوں، منگولوں، ترکوںکے محکوم رہے ہیں جبکہ سلطنت برطانیہ نے وہاں اپنا بندہ امیر عبدالرحمان بطورامیر مقرر کر کے وہاں بلواسطہ حکومت کی ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت 1880کا گندمک معاہدہ ہے ۔جو برظانیہ کے ہاتھوں شکست کے بعد امیر یعقوب خان نے کیا
اور افغانستان کے خارجہ امور تاج برطانیہ کو سونپ دئیے۔ اور جس کی توثیق امیر عبدالرحمان اور انکے بعد آنے والے حکمران بھی کرتے رہے۔ اور اسی معاہدے کے بعد برطانوی ہند کی فوجافغانستان سے واپس ہوئی تھی۔
کچھ ایسا ہی معاملہ سوویت یونین کا بھی تھا ۔جو اپنی ببرک کارمل جیسی کٹھ پتلیوں کے ذریعے اور بعد ازاں براہ راست فوجی قبضے کے ذریعےافغانستان پر قابض رہا ۔ یقیناً پاکستان اگر امریکہ اور اسکے مغربی اتحادیوں کو افغانوں کی مدد پر آمادہ نہ کرتا توشاید وہ آج بھی روس کے زیر تسلط ہوتے۔
بہرحال ہندوستان سے برطانیہ کی رخصتی تک ڈیورنڈ لائن کو تمام افغان حکمرانوں نے سرحد تسلیم کیا۔ بلکہ امیر عبد الرمان نے تو کہا تھا کہ یہ تاریخی معاہدہ ہے ۔جس سے افغانستان کی ہند کے ساتھ ایک واضح سرحد متعین ہوئی ہے جس سے مستقبل میں غلط فہمیاں نہیں ہوں گی۔
مگر قیام پاکستان کے ساتھ ہی افغانوں کو تکلیف شروع ہوگئی ۔اور گذشتہ 78سالوں کے دوران ڈیورنڈ لائن کے سرحد ہونے یا نہ ہونے کا معاملہ متعدد بار اٹھایا جا چکا ہے۔ گزشتہ دنوں بھی افغانستان میں طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا یعقوب اور بھارت کے پیار بھرے حالیہ دورے میں وزیر خارجہ امیر خان متقی کی جانب سے ڈیورنڈ لائن کے حوالے سے ایسے ہی متنازع بیان سامنے آچکے ہیں۔جو درحقیقت بھارت سے دوستی کا نتیجہ ہے۔












