نئی دہلی (پاک تر ک نیوز)بھارت اپنی بری فوج کے لیے پہلا مخصوص مواصلاتی مصنوعی سیارہ جی سیٹ 7 بی 2028ء کے وسط میں خلا میں بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد سرحدی اور دشوار گزار علاقوں میں تعینات فوجیوں کو محفوظ، مسلسل اور مؤثر رابطے کی سہولت فراہم کرنا ہے۔
بھارتی حکام کے مطابق تقریباً پانچ ٹن وزنی یہ مصنوعی سیارہ بھارتی خلائی تحقیق کے ادارے کے ذریعے خلا میں بھیجا جائے گا۔ اسے بھارت کا اب تک کا سب سے بھاری مواصلاتی مصنوعی سیارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اس نظام کے ذریعے فوجی دستوں، ہتھیاروں، فضائی پلیٹ فارموں اور دیگر اہم دفاعی وسائل کے درمیان ایسے علاقوں میں بھی رابطہ ممکن ہوگا جہاں زمینی مواصلاتی نظام کی رسائی محدود ہو یا وہ متاثر ہو جائے۔ یہ مصنوعی سیارہ فوجی کارروائیوں کی نگرانی، کمان اور رابطوں کو بہتر بنانے میں مدد دے گا۔
رپورٹ کے مطابق جی سیٹ 7 بی کو ابتدائی طور پر نومبر 2027ء میں خلا میں بھیجنے کا منصوبہ تھا، تاہم تکنیکی وجوہات کے باعث اس کی روانگی میں چھ ماہ کی تاخیر ہوئی ہے۔
بھارتی وزارت دفاع نے مارچ 2023ء میں اس مصنوعی سیارے کی مقامی سطح پر تیاری کے لیے تقریباً 2 ہزار 963 کروڑ بھارتی روپے کا معاہدہ کیا تھا۔ یہ معاہدہ بھارتی خلائی تحقیق کے ادارے کے تجارتی شعبے نیو اسپیس انڈیا لمیٹڈ کے ساتھ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سائبر جرائم کے خلاف ملک گیر کارروائیاں، ایک ماہ میں ایک ہزار 129 ملزمان گرفتار
بھارتی بری فوج اس وقت اپنے مواصلاتی رابطوں کے لیے فضائیہ کے مصنوعی سیارے جی سیٹ 7 اے کی صلاحیت سے بھی استفادہ کرتی ہے۔ نئے مصنوعی سیارے کے فعال ہونے کے بعد بری فوج کو اپنے لیے مخصوص مواصلاتی نظام میسر آنے کی توقع ہے۔






