کوئٹہ ( پاک ترک نیوز) بلوچستان میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کے خلاف خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائیوں میں اہم کامیابیاں ملی ہیں ۔ ترجمان حکومت بلوچستان شاہدرند کے مطابق صوبے بھر میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں جاری ہیں، جن کے دوران فتنہ الہندوستان سے منسلک دہشت گرد نیٹ ورک بے نقاب کیا گیا ہے۔ترجمان حکومت بلوچستان نے بتایا کہ فتنہ الخوارج کے چھ دہشت گردوں اور دو کمانڈروں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ گرفتار افراد میں دو خواتین خودکش بمبار بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق گرفتار دہشت گردوں کو قانون کے مطابق سزا دلوا کر کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
شاہدرند کے مطابق ملزم شہاب رشید کے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے روابط اور ہتھیاروں سے متعلق بھی انکشافات سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شہاب نامی نوجوان نے اپنے خاندان کے ذریعے رابطہ کیا اور سرنڈر کیا ہے۔ترجمان حکومت بلوچستان کا کہنا تھا کہ حراستی مراکز میں تقریباً 90 دہشت گرد موجود ہیں، تاہم آئین پاکستان کو تسلیم کرنے والوں کے لیے ریاست کے دروازے کھلے ہیں اور حکومت ہتھیار ڈالنے والوں کو موقع فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے بلوچستان کے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ریاست سے جڑیں۔شاہدرند کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا دہشت گردی کے خاتمے سے متعلق مؤقف واضح ہے اور صوبے میں کارروائیاں جاری رہیں گی۔دوسری جانب کمشنر کوئٹہ حمزہ شفقات نے کہا ہے کہ بروقت کارروائی کے ذریعے کوئٹہ کو ایک بڑے سانحے سے بچایا گیا۔ آئی جی پولیس کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں گزشتہ روز پولیس کے دو اہلکار شہید ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی کے تحفظ کے لیے شانہ بشانہ کھڑا ہے،وزیراعظم
حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ گرفتار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی












