نئی دہلی ( پاک ترک نیوز) بھارت: بھارت 2027 میں جاپان کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بننے کی جانب گامزن ہے، عالمی مالیاتی فنڈ نے پیش گوئی کی ہے کہ بھارتی معیشت کا حجم 4 ہزار 520 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا، جبکہ جاپان تنزلی کے بعد چھٹے نمبر پر آ جائے گا۔عالمی مالیاتی فنڈ کے مطابق رواں سال جاپان دنیا کی چوتھی بڑی معیشت کی حیثیت برقرار رکھے گا، تاہم 2027 میں بھارت اس سے آگے نکل جائے گا، جبکہ برطانیہ بھی جاپان سے آگے رہنے کی توقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارت نے عالمی معاشی مشکلات کے باوجود گزشتہ برسوں میں مضبوط معاشی ترقی کی ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ نے رواں سال بھارتی معیشت کی شرح نمو کا تخمینہ بڑھا کر 7 فیصد کر دیا ہے۔اس کے برعکس جاپان کو عمر رسیدہ آبادی، سست معاشی ترقی اور ساختی مسائل کا سامنا ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ نے 2026 میں جاپانی معیشت کی شرح نمو صرف 0.7 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔عالمی مالیاتی فنڈ کے ایشیا و بحرالکاہل شعبے کے سربراہ کرشنا سرینواسن کے مطابق بھارت مضبوط معاشی بنیادوں، مالیاتی نظم و ضبط اور زرمبادلہ کے وافر ذخائر کے ساتھ توانائی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بحران میں داخل ہوا، جس سے اسے صورت حال سے نمٹنے میں مدد ملی۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے بچے سے زیادتی کے ملزم کی درخواست ضمانت مسترد کر دی
جاپان میں توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور مہنگائی نے بھی معیشت پر دباؤ بڑھایا ہے۔ 2022 کے موسم بہار سے صارفین کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ ین کی قدر میں کمی نے درآمدی اشیا مزید مہنگی کر دی ہیں۔رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری سے جاپانی معیشت کو فائدہ پہنچ رہا ہے، تاہم اس کا اثر خطے کے بعض دوسرے ممالک کے مقابلے میں محدود ہے۔ جمعرات کو ٹوکیو کی حصص منڈی کا اہم اشاریہ تقریباً 5 فیصد گر گیا، جس کی بڑی وجہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص میں کمی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں منافع کے حوالے سے خدشات تھے۔












