واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکی خلائی ادارے ناسا نے چاند پر انسانوں کی واپسی کے منصوبے آرٹیمس تھری کے لیے اہم پیش رفت حاصل کر لی۔ خلائی مشن کے لیے تیار کیے جانے والے طاقتور ایس ایل ایس راکٹ کے چاروں مرکزی انجن نصب کر دیے گئے ہیں، جبکہ ٹھوس ایندھن سے چلنے والے راکٹ بوسٹرز کے آخری حصوں کی تنصیب بھی مکمل کر لی گئی ہے۔ناسا کے مطابق یہ کام امریکی ریاست فلوریڈا میں کینیڈی خلائی مرکز میں جاری ہے۔ راکٹ کو ابتدائی مرحلے میں مختصر ساخت کے ساتھ تیار کیا جا رہا ہے، تاکہ آنے والے مہینوں میں ایندھن بھرنے اور زمینی نظام کی جانچ کی جا سکے۔
راکٹ کے مرکزی حصے پر اب ایک خصوصی نظامی سرنگ نصب کی جائے گی، جس میں اہم تاریں اور برقی رابطے گزارے جاتے ہیں۔ اس کے بعد مرکزی حصے کو ٹھوس ایندھن والے بوسٹرز کے ساتھ جوڑ کر راکٹ کی مختصر ساخت مکمل کی جائے گی۔منصوبے کے اگلے مرحلے میں راکٹ کو اسمبلی عمارت سے لانچ پیڈ 39 بی تک منتقل کیا جائے گا، جہاں ایندھن بھرنے کی مشق اور مختلف طریقہ کار کی جانچ ہوگی۔ آرٹیمس تھری کے خلاباز بھی لانچ کے دن کی مکمل مشق کریں گے اور ہنگامی صورت حال میں راکٹ سے بحفاظت نکلنے کے راستوں کا جائزہ لیں گے۔ناسا کے مطابق لانچ پیڈ پر شعلوں اور شدید حرارت کو برداشت کرنے والے حصے کی مرمت بھی جاری ہے۔ آرٹیمس ٹو کی پرواز کے بعد اس حصے کو معمولی نقصان پہنچا تھا، جبکہ زمینی نظام میں کی گئی بہتری کے باعث شعلوں کی گزرگاہ میں نصب اینٹیں محفوظ رہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بابا گورو نانک کے 557ویں جنم دن کی تیاریوں کے سلسلے میں متروکہ وقف املاک کا اجلاس
دوسری جانب اورائن خلائی جہاز کے نظاموں کی جانچ بھی جاری ہے۔ یورپی خلائی ادارے اور فضائی کمپنی ایئربس کے ماہرین نے جہاز کے شمسی پینلوں کا معائنہ کیا ہے، جو خلائی جہاز کو بجلی فراہم کرتے ہیں۔ یہی جہاز کا نظام خلابازوں کے لیے توانائی، درجہ حرارت پر قابو، ہوا اور پانی کی فراہمی میں بھی معاون ہوتا ہے۔آرٹیمس تھری کے خلابازوں کی تربیت بھی جاری ہے۔ عملے نے جسمانی ورزش کے خصوصی آلے کے استعمال، زیرِ آب ہنگامی اخراج، سمندر میں ممکنہ ہنگامی صورت حال سے نمٹنے اور حفاظتی لباس کے ساتھ مختلف مشقیں مکمل کی ہیں۔ خلابازوں نے خلائی سفر کے دوران استعمال ہونے والی خوراک میں سے تقریباً 200 اشیا چکھ کر اپنی پسند کا انتخاب بھی کیا ہے۔ناسا کے مطابق راکٹ کے اضافی ساختی حصوں اور جوڑنے والے نظاموں کی تیاری بھی جاری ہے، جنہیں اگلے سال کے آغاز میں کینیڈی خلائی مرکز منتقل کرنے کا منصوبہ ہے۔












