بیجنگ ( پاک ترک نیوز) چین نے اپنے جدید فضائی نگرانی اور کنٹرول کے نظام کو مزید وسعت دے دی ہے، جہاں کے جے 500 طیاروں کا بڑھتا ہوا بیڑا بحرالکاہل اور ہند بحرالکاہل کے خطے میں فوجی توازن پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔دفاعی تجزیے کے مطابق چین کی فضائیہ اور بحریہ میں شامل یہ طیارے دور تک فضائی اہداف کا سراغ لگانے، ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے اور دوسرے جنگی پلیٹ فارموں تک معلومات پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس صلاحیت سے چین کو اپنے لڑاکا طیاروں، بغیر پائلٹ طیاروں اور بحری نظاموں کے درمیان رابطہ بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
کے جے 500 طیارہ وائی 9 ساخت پر تیار کیا گیا ہے اور اس میں جدید ریڈار نظام نصب ہے۔ اس کے ریڈار کی ترتیب طیارے کو مختلف سمتوں میں فضائی اہداف کی نگرانی کرنے میں مدد دیتی ہے، جس سے مسلسل فضائی صورت حال پر نظر رکھنا ممکن ہوتا ہے۔رپورٹ کے مطابق چین کے پاس ان طیاروں کی تعداد 60 سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ تاہم اس تعداد کی آزادانہ تصدیق اور مختلف فوجی شعبوں میں ان کی درست تقسیم کے بارے میں معلومات محدود ہیں۔ان طیاروں کی اہمیت صرف دشمن کے طیاروں کا پتا لگانے تک محدود نہیں۔ یہ فضائی نگرانی، ہدف کی نشاندہی، جنگی معلومات کی ترسیل اور مختلف فوجی نظاموں کے درمیان رابطے کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ اس طرح ایک طیارے سے حاصل ہونے والی معلومات دوسرے جنگی پلیٹ فارموں کی کارروائی میں مدد دے سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چین کا جنگی طیارہ جے 36 امریکا کیلئے نیا خطرہ
ہند بحرالکاہل کے خطے میں چین کی اس صلاحیت کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ مسلسل فضائی نگرانی سے جنگی طیاروں اور بحری افواج کی نقل و حرکت کا سراغ لگانے اور طویل فاصلے سے کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں مدد مل سکتی ہے۔












