لاہور( پاک ترک نیوز) فضاؤں میں طاقت کا نیا طوفان اٹھنے والا ہے! چین کا پراسرار جنگی طیارہ جے 36، جس کی اصل صلاحیتیں آج بھی دنیا کے لیے ایک معمہ ہیں! تین انجن، بغیر عمودی دُم کا منفرد ڈیزائن اور دشمن کے دفاعی نظام کو چکمہ دینے کی ممکنہ صلاحیت! کیا چین ایسا جنگی ہتھیار تیار کر رہا ہے جو مستقبل کی فضائی جنگ کا نقشہ بدل دے گا؟ اور کیا امریکا کا جدید ترین ایف 47 اس نئے چیلنج کا مقابلہ کر پائے گا؟ دیکھیے، طاقت، ٹیکنالوجی اور خفیہ جنگ کی سنسنی خیز کہانی!
یہ محض ایک جنگی طیارہ نہیں، بلکہ مستقبل کی فضائی طاقت کے لیے چین کا ایک بڑا دعویٰ ہے! جے 36۔۔۔ ایک ایسا پراسرار طیارہ جس کی پرواز نے دفاعی ماہرین کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی!چھبیس دسمبر دو ہزار چوبیس کو چین کے شہر چینگ دو کے اوپر اس طیارے کی پرواز سامنے آئی۔ اس کا غیر معمولی حجم، تین انجنوں کی ترتیب اور بغیر عمودی دُم کا ڈیزائن اسے روایتی جنگی طیاروں سے بالکل مختلف بناتا ہے۔ لیکن اصل سنسنی اس کے ڈیزائن میں نہیں، بلکہ ان امکانات میں چھپی ہے جو اس طیارے کو مستقبل کی فضائی جنگ میں ایک اہم کردار دے سکتے ہیں!کیا جے 36 طویل فاصلے تک حملے کرنے کے ساتھ ساتھ دوسرے جنگی طیاروں اور بغیر پائلٹ فضائی آلات کو بھی ہدایات دے سکے گا؟ کیا یہ فضا میں ایک اڑتے ہوئے کمانڈ مرکز کا کردار ادا کرے گا؟یہ امکانات زیر بحث ضرور ہیں، لیکن چین نے ابھی تک ان صلاحیتوں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں: سالانہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کا آج آخری دن
سوشل میڈیا پر اس طیارے کی رفتار، ریڈار سے بچ نکلنے کی صلاحیت اور ہزاروں کلومیٹر تک کارروائی کرنے کے دعوے بھی گردش کر رہے ہیں۔ بعض دعووں میں رفتار کو آواز کی رفتار سے کئی گنا زیادہ بتایا گیا ہے، لیکن ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق موجود نہیں۔یعنی جے 36 کے گرد پھیلا ہوا راز جتنا گہرا ہے، اس کی حقیقی جنگی صلاحیتوں کے بارے میں سوالات بھی اتنے ہی بڑے ہیں! دوسری جانب امریکا بھی اپنے جدید جنگی طیارے ایف 47 پر کام کر رہا ہے۔ اس کی پہلی پرواز دو ہزار اٹھائیس میں متوقع ہے، جبکہ اسے عملی طور پر میدان میں اتارنے کا ہدف اگلی دہائی کے ابتدائی برس بتائے جاتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ مستقبل کی فضائی جنگ میں سبقت کس کو ملے گی؟ چین کے جے 36 کو یا امریکا کے ایف 47 کو؟فی الحال دونوں کا براہ راست موازنہ کرنا ممکن نہیں، کیونکہ جے 36 کی اصل کارکردگی، ہتھیاروں اور عملی صلاحیتوں کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔












