اسلام آباد ( پاک ترک نیوز ) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس انتخابی عمل کے نتیجے میں موجودہ حکومت قائم ہوئی، وہ جعلی تھا۔ اگر حکمران خدا کو حاضر ناظر جان کر یہ کہہ دیں کہ وہ انتخابات جیت کر آئے ہیں تو وہ اپنا مؤقف واپس لینے کو تیار ہیں۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کا قصور صرف یہ ہے کہ وہاں عوام کی طاقت سے حکومت قائم ہوئی۔ عوام سے طاقت کے ذریعے حق حکمرانی چھیننے کی کوشش کی گئی تو وہ اس کے خلاف کھڑے ہوں گے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ عمران خان کی جماعت سے انتخابی نشان عدالتی کارروائی کے ذریعے چھین لیا گیا۔ انہوں نے مجیب الرحمٰن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسلم لیگ کے کارکن تھے اور سائیکل پر بیٹھ کر جماعت کے لیے کام کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں بنگالیوں کے خلاف تعصب کی بنیاد پر مارشل لا نافذ کیا گیا۔ جب ریاست اپنے ہی عوام کے خلاف لڑتی ہے تو لوگ مجبوراً بیرونی مدد کی طرف دیکھنے لگتے ہیں۔
قائد حزب اختلاف نے الزام عائد کیا کہ ملک چلانے والے پاکستان کے وسائل لوٹ رہے ہیں اور پھر کینیڈا اور امریکا چلے جاتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کے تئیس ہزار سرکاری افسران دوہری شہریت رکھتے ہیں۔محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی غلطیوں کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے۔ ملک کو بچانے کا واحد راستہ آئین، جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عوام کے حق حکمرانی کا احترام کیے بغیر ملک کو درپیش مسائل حل نہیں ہو سکتے۔












