ووہان ( پاک ترک نیوز) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ چین کے دورے کے دوران سینٹرل چائنا نارمل یونیورسٹی کا دورہ کیا، جہاں تعلیمی تعاون، جدید تدریسی نظام اور مشترکہ تحقیقی منصوبوں کے فروغ پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
یونیورسٹی آمد پر نائب صدر مسٹر لی اور فیکلٹی اراکین نے وزیراعلیٰ سندھ کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مراد علی شاہ نے ڈیجیٹل تدریسی کلاسوں کا دورہ کیا اور جدید تعلیمی نظام سے متعلق تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔وزیراعلیٰ سندھ نے یونیورسٹی کی قیادت سے ملاقات میں کہا کہ سندھ کی جامعات اور چینی تعلیمی اداروں کے درمیان روابط کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے طلبہ کے تبادلے، اساتذہ کی تربیت اور مشترکہ تحقیق کو فروغ دینے کی تجاویز بھی پیش کیں۔
مراد علی شاہ نے مصنوعی ذہانت، قابل تجدید توانائی، جدید شہری منصوبہ بندی اور تعلیمی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی، ڈیجیٹل تبدیلی اور پائیدار ترقی موجودہ دور کے اہم چیلنجز ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے پاکستان اور چین کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق صوبے میں 60 سے زائد جامعات اور تکنیکی ادارے موجود ہیں، جہاں سے ہر سال دو لاکھ سے زائد طلبہ فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت تعلیم میں ڈیجیٹل خواندگی، فنی تربیت اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے پر توجہ دے رہی ہے۔یونیورسٹی قیادت کی جانب سے وزیراعلیٰ سندھ کو ادارے کے تعلیمی پروگراموں، تحقیقی سرگرمیوں اور عالمی شراکت داریوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ بریفنگ کے مطابق یونیورسٹی میں 30 ہزار سے زائد طلبہ اور تقریباً ڈھائی ہزار اساتذہ ہیں، جبکہ اس کے 25 تعلیمی شعبے مختلف ڈگری پروگرام پیش کرتے ہیں۔مراد علی شاہ نے یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ کو سندھ کے دورے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی شراکت داری کو کلاس رومز تک محدود رکھنے کے بجائے نوجوانوں کے درمیان دیرپا روابط قائم کیے جائیں۔ انہوں نے یونیورسٹی میں زیرتعلیم پاکستانی طلبہ سے بھی ملاقات کی اور انہیں محنت اور لگن سے تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دی۔
یہ بھی پڑھیں: طالبان کی پالیسیوں کے باعث شہریوں کے بنیادی حقوق اور آزادیاں شدید متاثر
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعلیمی تعاون، مشترکہ تحقیق اور طلبہ کے تبادلے سے باہمی دوستی اور خوشحالی کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔












