لندن ( پاک ترک نیوز) برطانیہ، اٹلی اور جاپان کے چھٹی نسل کے جدید جنگی طیارے کے مشترکہ منصوبے میں جرمنی کی ممکنہ شمولیت نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ دفاعی صنعت سے وابستہ اعلیٰ حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر جرمنی کو منصوبے میں مکمل شراکت دار بنایا گیا اور اس نے طیارے کے ڈیزائن اور تیاری میں بڑے حصے کا مطالبہ کیا تو منصوبے میں ایک سے دو سال تک تاخیر ہو سکتی ہے۔یہ منصوبہ عالمی جنگی فضائی پروگرام کے نام سے جاری ہے، جس کا مقصد 2035 تک جدید، تیز رفتار اور ریڈار سے بچنے کی صلاحیت رکھنے والا لڑاکا طیارہ تیار کرنا ہے۔ مجوزہ طیارہ صرف فضائی حملوں تک محدود نہیں ہوگا بلکہ بغیر پائلٹ طیاروں، میزائلوں، میدانِ جنگ میں رابطوں اور خفیہ معلومات جمع کرنے والے نظاموں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔
اٹلی کے شہر تورین میں منصوبے کی نئی تنصیب کے افتتاح کے موقع پر دفاعی کمپنی لیونارڈو کے سربراہ لورینزو ماریانی نے واضح کیا کہ نئے شراکت داروں کی شمولیت خوش آئند ہے، تاہم طیارے کی بروقت تیاری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔جاپان نے بھی مقررہ مدت میں منصوبہ مکمل کرنے پر زور دیا ہے۔ جاپان کے موجودہ ایف ٹو جنگی طیارے 2035 سے ریٹائر ہونا شروع ہونے والے ہیں، جبکہ خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں بھی ٹوکیو کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔دوسری جانب جرمنی کی شمولیت سے منصوبے کی مجموعی لاگت کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، لیکن اس کے کردار، صنعتی حصے اور ٹیکنالوجی کی تقسیم پر اختلافات پیدا ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔ آسٹریلیا اور سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کے ساتھ بھی ممکنہ شراکت داری پر ابتدائی بات چیت کی اطلاعات ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کا اعلان
منصوبے کی ذمہ دار کمپنی ایج وِنگ کے سربراہ مارکو زوف کے مطابق مزید ممالک کو شامل کرنے کی گنجائش موجود ہے، تاہم اس کے لیے صنعتی ذمہ داریوں، ٹیکنالوجی اور کام کی تقسیم سے متعلق سمجھوتے کرنا پڑ سکتے ہیں۔برطانوی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ برطانیہ، اٹلی اور جاپان نئے شراکت داروں کی شمولیت کے لیے تیار ہیں، لیکن اس اہم دفاعی صلاحیت کو تیزی سے عملی شکل دینے پر توجہ برقرار رہے گی۔












