بیجنگ(پاک ترک نیوز )چین نے ایلون مسک کے اسٹارلنک کے متبادل کے طور پر تیار کیے جانے والے اپنے سیٹلائٹ نیٹ ورک ’گواوانگ‘ کے ذریعے آرکٹک سے انٹارکٹیکا تک ویڈیو کال کا تجربہ کیا ہے۔ چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ گواوانگ سیٹلائٹ نظام کا پہلا عوامی طور پر رپورٹ ہونے والا تجربہ ہے، جس میں دونوں قطبی خطوں کے درمیان تقریباً حقیقی وقت میں رابطہ قائم کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ستمبر کے آخری دنوں میں چین کے آرکٹک تحقیقی مشن کے تین بحری جہازوں، شوئہ لونگ، جی دی اور تان سو تھری، پر موجود محققین نے انٹارکٹیکا میں قائم چین کے چِنگ لِنگ تحقیقی مرکز میں موجود عملے سے ویڈیو رابطہ کیا۔ اس دوران رابطے میں تاخیر ایک سیکنڈ سے بھی کم بتائی گئی۔
چین اس منصوبے کے ذریعے دنیا کے دور دراز علاقوں میں اپنے سیٹلائٹ مواصلاتی نظام کو مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ گواوانگ نیٹ ورک سرکاری ادارے چائنا سیٹلائٹ نیٹ ورک گروپ کے زیر انتظام ہے، جبکہ اس کی تیاری کا مقصد مواصلاتی خودمختاری اور معلومات کی حفاظت کو بہتر بنانا بھی ہے۔
رپورٹ کے مطابق گواوانگ کے ذریعے تحقیقی جہازوں اور چین کے قومی بحری معلوماتی ادارے کے درمیان بھی رابطے کا تجربہ کیا گیا۔ اس دوران معلوماتی فائلیں اور بحری سفر کی تفصیلات بھی ارسال کی گئیں۔ تجربے میں زیادہ سے زیادہ معلومات بھیجنے اور وصول کرنے کی رفتار تقریباً 30 میگا بٹس فی سیکنڈ ریکارڈ کی گئی۔
تاہم گواوانگ نیٹ ورک ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ اس کے تقریباً 180 سیٹلائٹ مدار میں موجود ہیں، جبکہ منصوبے کے تحت مستقبل میں تقریباً 13 ہزار سیٹلائٹ خلا میں بھیجنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
اس کے مقابلے میں امریکی کمپنی اسپیس ایکس کے اسٹارلنک نیٹ ورک کے تقریباً 11 ہزار سیٹلائٹ مدار میں موجود ہیں۔ اسٹارلنک عام طور پر مقام اور نیٹ ورک کی صورت حال کے مطابق 25 سے 220 میگا بٹس فی سیکنڈ تک ڈاؤن لوڈ رفتار فراہم کرتا ہے۔
چینی مبصرین کے مطابق گواوانگ کا موجودہ نظام محدود مواصلاتی ضروریات پوری کر سکتا ہے، تاہم کوریج، معلومات کی مجموعی گنجائش، رابطے کی دستیابی اور خلل ڈالنے کی کوششوں کے خلاف مزاحمت کے معاملے میں اسے ابھی اسٹارلنک سے پیچھے قرار دیا جا رہا ہے۔
چائنا سیٹلائٹ نیٹ ورک گروپ کا ہدف ہے کہ 2027 کے اختتام تک گواوانگ کے 400 سیٹلائٹ مدار میں موجود ہوں، جبکہ 2029 کے آخر تک ان کی تعداد تقریباً 1300 تک پہنچائی جائے۔ طویل مدتی منصوبے کے تحت 2035 تک تقریباً 12 ہزار 992 سیٹلائٹ خلا میں بھیجنے کا ارادہ ہے۔
چین گواوانگ کے علاوہ چیان فان نامی ایک اور سیٹلائٹ نیٹ ورک بھی تیار کر رہا ہے، جس کا ہدف تقریباً 15 ہزار سیٹلائٹ خلا میں بھیجنا ہے۔ اس نیٹ ورک کے 256 سیٹلائٹ گزشتہ ماہ تک مدار میں موجود تھے۔












