نئی دہلی ( پاک ترک نیوز) بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کی پولیس نےآج سے الیکشن کمیشن کے خلاف ہونے والے بڑے احتجاج سے قبل ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے سربراہ ابھیجیت دپکے اور دو دیگر رہنماؤں کو نئی دہلی پہنچنے والی پرواز سے اترنے سے پہلے ہی گرفتار کر لیاہے۔جبکہ کارکنوں کی جانب سے احتجاج کے مقام پر جمع ہونے کو روکنے کے لئے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کاروائیوں میں مصروف ہیں۔
میڈیا رپور ٹس کے مطابق یہ مظاہرے الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے عمل کے خلاف کئی ہفتوں سے جاری اپوزیشن مہم کا نتیجہ ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں اور ناقدین کا خیال ہے کہ اس عمل کے نتیجے میں مجموعی طور پر ایک کروڑ سے زائدووٹرز حق رائے دہی سے محروم ہو سکتے ہیں اور اس کا براہ راست فائدہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو پہنچ سکتا ہے۔جبکہ بھارتی الیکشن کمیشن نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ خصوصی نظرثانی مہم کا مقصد صرف دہرے اندراجات اور نااہل ووٹرز کے نام فہرستوں سے نکالنا ہے۔
اپوزیشن جماعت عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال نے کہا ہے کہ اب یہ بات سرکاری طور پر واضح ہو چکی ہے کہ ہم مودی کے زیر حکومت ایک مکمل آمریت میں رہ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پرواز سے اترتے ہیسیاسی رہنماؤں کی گرفتاری حکومت کے خوف کو ظاہر کرتی ہے۔جمعے سے نئی دہلی میں سخت سکیورٹی نافذ ہے۔ حکام نے ہزاروں پولیس اور نیم فوجی اہلکار تعینات کر رکھے ہیں، درجنوں میٹرو سٹیشن بند کر دیے گئے ہیں، کئی ٹرینیں منسوخ کر دی گئی ہیں جبکہ احتجاجی مقام جنتر منتر کے اطراف موبائل انٹرنیٹ سروس بھی عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہے۔اور اب تک 200 سے زائد مظاہرین کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔موجودہ احتجاج کو جولائی میں ہونے والی اسی تحریک کی عوامی مہم کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں ایک امتحانی سکینڈل کے بعد بھارتی وزیر تعلیم مستعفی ہو گئے تھے۔ اس بار مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
دوسری جانب حکمران جماعت بی جے پی کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کی مقبولیت اور انڈیا کی معاشی ترقی اس کی انتخابی کامیابیوں کی بنیادی وجوہات ہیں، جبکہ اپوزیشن اپنی انتخابی ناکامیوں کی وجہ سے ملک کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔اس کے باوجود اپوزیشن کی جانب سے تقریباً روزانہ ہونے والے احتجاج مودی حکومت کے لیے ایک نیا سیاسی چیلنج بن چکے ہیں۔ چند ماہ قبل بھی اسی نوعیت کے عوامی دباؤ کے نتیجے میں لیک ہونے والے امتحانی پرچوں کے معاملے پر وزیر تعلیم کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی جیلوں میں گنجائش سے 160سے زیادہ قیدی موجود ہیں۔ انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ
یاد رہے کہ یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب 2027 کے اوائل سے مختلف اہم ریاستی انتخابات شروع ہونے والے ہیں، جن میں بی جے پی کے زیرِ اقتدار انڈیا کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اتر پردیش بھی شامل ہے۔












