لاہور( پاک ترک نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے نورین نیازی اور عظمیٰ خان کی نظر بندی کے خلاف درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی۔ جسٹس عبہر گل خان 12 اکتوبر کو سکینہ نیازی کی درخواست پر سماعت کریں گی۔عدالت نے نورین نیازی اور عظمیٰ خان کو ادویات، کپڑوں اور دیگر ضروری سہولتوں کی فراہمی سے متعلق رپورٹ بھی طلب کر رکھی ہے۔درخواست گزار کی جانب سے وکیل رانا مدثر پیش ہوں گے، جبکہ پنجاب حکومت کی نمائندگی اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل محمد فرخ خان کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ میں 9 ماہ کے دوران 29 ہزار 700 سے زائد افغان باشندے گرفتار، فرانس میں بھی ملک بدری کا فیصلہ
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نورین نیازی اور عظمیٰ خان کی نظر بندی کا حکم اتوار کے روز جاری کیا گیا۔ درخواست گزار کے مطابق نورین نیازی کی والدہ اور عظمیٰ خان ان کی خالہ ہیں اور دونوں شریف شہری ہیں۔درخواست میں مزید مؤقف اپنایا گیا ہے کہ 9 مئی کے جس مقدمے میں انہیں شاملِ تفتیش کیا گیا، اس میں بھی وہ بے گناہ ثابت ہوئیں۔درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ڈپٹی کمشنر لاہور کی جانب سے جاری کردہ نظر بندی کے حکم کو غیر آئینی قرار دیا جائے اور نورین نیازی اور عظمیٰ خان کی رہائی کے احکامات جاری کیے جائیں۔












