واشنگٹن(پاک ترک نیوز ) امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران سے یورینیئم کی افزودگی کی صلاحیت میں بامعنی کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری ہتھیار نہ بنانے کا ثبوت دینے کے لیے ایران کو 60 فیصد تک یورینیئم افزودگی ترک کرنا ہوگی۔جے ڈی وینس نے سوال اٹھایا کہ اگر ایران جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا تو اسے 60 فیصد تک افزودہ یورینیئم کی ضرورت کیوں ہے؟عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے مطابق ایران یورینیئم کو 60 فیصد تک افزودہ کر چکا ہے، جبکہ جوہری ہتھیار بنانے کے لیے تقریباً 90 فیصد افزودگی درکار ہوتی ہے۔ ایجنسی کے مئی 2025 کے جائزے میں ایران میں منظم جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے قابلِ اعتماد شواہد نہیں ملے تھے۔جے ڈی وینس کے بیان سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ واشنگٹن ایران سے یورینیئم کی افزودگی مکمل طور پر ختم کرانے کے بجائے اس کی سطح محدود کرنے کے امکان پر غور کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ میں موبائل سے ویڈیوز، تصاویر اور ٹک ٹاک بنانے پر پابندی
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی واضح کیا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنگ کا خاتمہ اچھے یا برے طریقے سے ہوگا۔دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا سے مذاکرات کو بے فائدہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہر بار مذاکرات کے بعد ایران پر حملہ کیا گیا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ انصاف اور برابری کی بنیاد پر مذاکرات ہی تنازع ختم کرنے کا راستہ ہیں۔












