واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) جنگ اب صرف پائلٹ کے کاک پٹ میں نہیں لڑی جائے گی۔۔۔ مستقبل کی جنگ میں آسمان پر ایسے جنگی طیارے بھی ہوں گے جنہیں اڑانے کے لیے پائلٹ کی ضرورت نہیں ہوگی!امریکا نے اسی مستقبل کی جانب ایک اور بڑا قدم اٹھا لیا ہے۔ نارتھروپ گرومین کے جدید بغیر پائلٹ جنگی طیارے ٹیلن بلیو نے پہلی مکمل خودکار پرواز کامیابی سے مکمل کرلی ہے۔کیلیفورنیا کے موجاوے ایئر اینڈ اسپیس پورٹ سے اڑان۔۔۔ اور کاک پٹ میں کوئی پائلٹ موجود نہیں!ٹیلن بلیو نے خود ٹیکسی کی، رن وے سے اڑان بھری، فضا میں مختلف حرکات انجام دیں اور پھر خود ہی لینڈنگ بھی کرلی۔
یعنی پرواز کا پورا مرحلہ انسانی پائلٹ کے بغیر مکمل!نارتھروپ گرومین کے مطابق ٹیلن بلیو کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ اسے کم لاگت میں بڑی تعداد میں تیزی سے تیار کیا جاسکے۔یہ صرف ایک ڈرون نہیں۔۔۔ بلکہ مستقبل کے جنگی طیاروں کے ایک ایسے نظام کا حصہ ہے جس میں بغیر پائلٹ طیارے انسانی لڑاکا طیاروں کے ساتھ مل کر دشمن کا مقابلہ کریں گے۔ٹیلن بلیو میں اندرونی ہتھیار رکھنے کی جگہ بھی موجود ہے، جبکہ اس کا ڈیزائن مختلف جنگی مشنوں کے مطابق تبدیل کیا جاسکتا ہے۔اور سب سے حیران کن بات۔۔۔ نارتھروپ گرومین کا دعویٰ ہے کہ کمپنی کے خودکار نظام پہلے ہی پانچ لاکھ سے زیادہ گھنٹے کی خودکار پروازوں کا تجربہ حاصل کرچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی فضائیہ کا تیز رفتار میزائلوں کے لیے جدید انجن تیار کرنے کا منصوبہ
امریکی فضائیہ پہلے ہی دوسرے جنگی ڈرون منصوبوں پر بھی کام آگے بڑھا رہی ہے، جبکہ بوئنگ، لاک ہیڈ مارٹن اور دیگر دفاعی کمپنیاں بھی اس دوڑ میں شامل ہیں۔یعنی آنے والی فضائی جنگ میں آسمان پر پائلٹ کم۔۔۔ اور خودکار جنگی طیارے زیادہ نظر آسکتے ہیں۔ٹیلن بلیو کی پہلی پرواز صرف ایک آزمائشی اڑان نہیں۔۔۔ بلکہ اس بات کا اشارہ ہے کہ جنگی طیاروں کا مستقبل تیزی سے انسانی پائلٹ سے خودکار نظام کی طرف بڑھ رہا ہے۔












