جدہ (پاک ترک نیوز )دبئی سے اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کے دوران گرفتار عمانی معاون پائلٹ نے مبینہ طور پر اسرائیل کے بن گوریون ہوائی اڈے پر طیارہ گرانے کا منصوبہ پہلے ہی تیار کر رکھا تھا۔
رپورٹس کے مطابق تفتیش کے دوران 29 سالہ معاون پائلٹ نے بتایا کہ اس نے طیارہ تباہ کرنے کا منصوبہ فلائی دبئی میں ملازمت حاصل کرنے سے قبل ہی بنا لیا تھا۔
معاون پائلٹ کے مبینہ منصوبے کے مطابق وہ پہلے طیارہ اڑانے والے سینئر پائلٹ کو زخمی کرتا، پھر خود طیارے کا کنٹرول سنبھال کر معمول کے مطابق تل ابیب پہنچتا تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیل پہنچنے کے بعد اس کا ارادہ بن گوریون ہوائی اڈے کی کسی عمارت یا دوسرے طیارے سے ٹکرانے کا تھا، جبکہ ناکامی کی صورت میں تل ابیب کی کسی بلند عمارت یا اردن میں موجود امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بھی بنایا گیا تھا۔
گرفتار معاون پائلٹ نے مبینہ طور پر بتایا کہ جون میں اسرائیل کے سفر کے دوران اس نے حملے کی تیاری اور معلومات جمع کرنے پر توجہ مرکوز کی تھی اور جولائی میں منصوبے پر عمل درآمد کا ارادہ تھا، تاہم آخری وقت میں اسے مؤخر کردیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق 30 ستمبر کو دبئی سے اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں اسے اپنے مبینہ منصوبے پر عمل درآمد کا موقع ملا۔ اس نے کاک پٹ میں اپنے سینئر پائلٹ پر ہتھوڑے سے حملہ کیا اور طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی۔
تاہم زخمی پائلٹ کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوگیا، جس کے بعد مسافر اندر داخل ہوئے اور معاون پائلٹ کو قابو کرلیا۔
زخمی پائلٹ نے بعد ازاں اسرائیلی وزیراعظم کو بتایا کہ حملے سے چند منٹ قبل معاون پائلٹ نے نماز ادا کرنے کی اجازت مانگی تھی اور پھر عقب سے آکر اس پر حملہ کردیا۔
رپورٹس کے مطابق گرفتار معاون پائلٹ کی عمر 29 سال ہے، اس کی پیدائش متحدہ عرب امارات میں ہوئی اور وہیں اس کی پرورش ہوئی۔ اس کے والد عمانی جبکہ والدہ شامی بتائی جاتی ہیں۔
رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ معاون پائلٹ انتہا پسند خیالات رکھتا تھا اور القاعدہ سے متاثر تھا۔ فلائی دبئی سے قبل وہ عمانی ایئرلائن میں بھی کام کرچکا تھا، جہاں مبینہ طور پر اس کے متشدد خیالات کے باعث اسے پروازیں اڑانے سے روک کر انتظامی ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں۔
تاہم بعد میں وہ فلائی دبئی میں ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا اور اسرائیل جانے والی پرواز کے عملے کا حصہ بھی بن گیا۔ رپورٹس کے مطابق تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ وہ سابقہ ریکارڈ کے باوجود فلائی دبئی میں معاون پائلٹ کی حیثیت سے ملازمت حاصل کرنے میں کیسے کامیاب ہوا۔





